جے پور5اکتوبر: راجستھان کی راجدھانی جے پور میں سڑک چوڑی کرنے کے نام پر جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی انہدامی کارروائی کے بعد مقامی تاجروں اور رہائشیوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ جے ڈی اے نے سوڈالا تراہے سے گوجر کی تھڑی تک نیو سانگانیر روڈ پر مبینہ تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی کی، جس کے دوران کئی دکانوں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا۔ متاثرہ تاجروں کا الزام ہے کہ جے ڈی اے نے کارروائی میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اور ایسی تعمیرات کو بھی تجاوزات قرار دے کر توڑ دیا جن کے مالکان کے پاس قانونی دستاویزات اور پٹہ موجود ہے۔ تاجروں نے کارروائی کو من مانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جے ڈی اے سے انہدام کی بنیاد واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوڈالا علاقے کے ایک دکاندار رمیش نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جگہ باقاعدہ طور پر مجاز ہے اور وہاں کسی قسم کا غیر قانونی قبضہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان کے پاس سوسائٹی کا باقاعدہ پٹہ بھی موجود ہے، اس کے باوجود جے ڈی اے اسے تجاوزات قرار دے رہا ہے۔ رمیش نے کہا کہ اگر جے ڈی اے کے مطابق ان کی تعمیر تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے تو حکام کو اس کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جگہ سے متعلق تمام کاغذات اور پٹہ موجود ہیں، اس لیے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ تجاوزات کس بنیاد پر قرار دی گئی ہیں۔
کارروائی سے متاثر ایک خاتون دکاندار نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہدام کی وجہ سے ان کا بچہ بے روزگار ہو گیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ جے ڈی اے اپنی مرضی سے کارروائی کر رہا ہے اور حکام نے متاثرہ عمارتوں پر درست طریقے سے نشانات بھی نہیں لگائے۔
خاتون کے مطابق ابتدا میں کہا گیا تھا کہ صرف سات فٹ تک کا حصہ توڑا جائے گا۔ اسی بنیاد پر متعدد دکانداروں نے خود ہی اپنی دکانوں اور عمارتوں کا کچھ حصہ توڑ دیا، لیکن بعد میں حکام کی جانب سے فٹ پاتھ توڑنے کی بات کہی جانے لگی۔









