بھوپال، 05 اکتوبر: دارالحکومت کے مسرود میں واقع نوین ہائر سیکنڈری اسکول کی سائنس ٹیچر ببیتا کشواہا کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مشتعل طلبہ و طالبات نے پیر کے روز اسکول کے باہر سڑک پر بیٹھ کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرہ کرنے والے گیارہویں جماعت (ریاضی و حیاتیات) کے طلبہ کا الزام ہے کہ مذکورہ ٹیچر امتحانات میں فیل کرنے کی دھمکیاں دے کر ان سے ذاتی و گھریلو کام کراتی ہیں، اسکول میں بنچ جمانے، صفائی کرنے اور رول نمبر درج کرنے جیسے نچلے درجے کے کاموں پر مجبور کرتی ہیں اور انکار کرنے پر لوہے کے پائپ سے مار پیٹ کا نشانہ بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ورک کے نام پر ہر ماہ فی طالب علم 2500 روپے کا ناجائز مطالبہ کیا جاتا ہے، اور یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس پیسے ہوں وہی سائنس اسٹریم میں پڑھے، جس کے دباؤ میں آ کر بعض بچوں نے سائنس کا مضمون تک چھوڑ دیا۔ طلبہ نے ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی پیش کی جس میں پاس فیل کرانے اور رقوم کے لین دین کی گفتگو بتائی جا رہی ہے۔ احتجاج کی اطلاع ملتے ہی تھانہ مسرود کے انچارج وملش کمار رائے اور پرنسپل نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم طلبہ ٹیچر کے فوری تبادلے تک دھرنا ختم نہ کرنے پر بضد رہے۔ بالآخر تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد ضلع ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) ابھینو آریہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ٹیچر ببیتا کشواہا کا تبادلہ باگرودا ہائر سیکنڈری اسکول کرنے کا حکم جاری کیا اور ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ جانچ بٹھا دی، جس کے بعد مظاہرہ ختم ہوا۔ دوسری جانب ملزمہ ٹیچر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 30 سالہ تدریسی تجربہ رکھتی ہیں اور فزکس کے بہتر نتائج کے لیے طلبہ پر صرف تعلیمی سختی کرتی ہیں، جبکہ لیب کے آلات کو ترتیب سے رکھنا تدریسی عمل کا ہی حصہ ہے۔ واضح رہے کہ 1962 میں قائم ہونے والے اس اسکول میں 37 اساتذہ و ملازمین کا عملہ تعینات ہے جہاں مذکورہ ٹیچر 2010 سے خدمات انجام دے رہی تھیں۔