بھوپال:4اکتوبر:موتی مسجد بھوپال میں نماز جمعہ سے قبل ’رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے فرمایا کہ قرآن و حدیث کے اندررشتہ داروںکے ساتھ بہتر سلوک کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ محبت و خلوص سے پیش آنا، ان کے دکھ درد، خوشی و مسرت میں شریک رہنا، وہ غریب ہوں تو ان کی مالی اعانت کرنا، وہ پریشان ہوں تو ان کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کی جان و مال عزت و آبرو کا احترام کرنا، ان کی بھلائی بہتری،ہدایت اور مغفرت کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، وہ صلہ رحمی نہ بھی کریں تو ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ یہی اسلامی تعلیمات ہیں ،ہمیں بحیثیت مسلمان اسلام کے ان زریں اصولوں کا پابند بنایا گیا ہے ۔قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’پس اے مومن رشتے دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافرکو بھی اس کا حق ادا کر، یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔‘‘
قاضی شہر نے فرمایا کہ گزشتہ دو تین جمعہ میں میں نے والدین کے حقوق،اولاد کے حقوق اور زوجین کے حقوق پر گفتگو کی تھی ۔آج کا عنوان میں نے ’رشتہ داروں کے حقوق‘ منتخب کیا ہے کیوں کہ ہماری زندگی میں جس طرح والدین،اولاد اور بیوی کی اہمیت ہے،ہمارے قریبی اور دور کے رشتہ داروں کے بھی حقوق متعین ہیں،ان کے حقوق کا خیال رکھنا اور انہیں عزت و احترام دینا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس کے بڑے فضائل ہیں۔ قرآن و احادیث میں ایمان والوں کو بار بار اس جانب ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتائو کریں اور ان کے دکھ اور مصیبت میں ان کے کام آئیں ،ایسا شخص جو ان چیزوں کی پیروی کرتا ہے وہ اللہ کی رحمت اور نگاہ کرم کامستحق ہوجاتا ہے مگر اس کے برعکس جو رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لیتا ہے اوران کے حقوق ادا نہیںکرتا وہ خدا کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے۔
اللہ کے پیارے رسول نے فرمایا:’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتاہو اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کرے ۔
مگر افسوس آج ایسی شکایات عام ہیں دور کے رشتہ داروں کے حقوق کی پرواہ تو کجا والدین کے حقوق ہی ادا نہیں کئے جاتے۔لوگ میرے پاس آتے ہیں اور یہی شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے بیٹے کی بڑے ارمان سے شادی کی مگر وہ تو شادی کے بعد بالکل ہی بدل گیا،اب اسے اپنی بیوی کے حقوق ہی یاد رہتے ہیں ،ہمیں تو بھول ہی گیا ۔میرے محترم بزرگو! ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کا داماد ان کی بیٹی کا خیال ہی نہیں رکھتا ،بس ماں باپ ہی اسے یاد رہتے ہیں ۔یہی شکایتیں آج ہر رشتے کے درمیان موجود ہیں ۔ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ کسی ایک کا حق دوسرے کئی لوگوں کے حقوق کو بھلا کر ادا کرنا سراسر غلط اور اسلام کے منافی ہے ۔ایک بندہ اپنی گنجائش کے مطابق اپنے قریبی اور دور کے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی میں تواز ن اور اعتدال رکھے ۔اسلام کا یہی منشا ہے اور اسلام اعتدال کی راہ کو پسند کرتا ہے ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: ’’سرکشی اور قطع رحمی سب گناہوں سے زیادہ اس بات کی مستحق ہے کہ ان کاارتکاب کرنے والے کو خدائے تعالیٰ دنیا میں بھی سزا دے، علاوہ اس سزا کے جو اس نے اس کے لئے آخرت میں رکھی ہے۔‘‘
میرے محترم بزرگو اور دوستو! آج کل یہ چلن عام ہے کہ اچھاسلوک کرنے والے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے لیکن کمال درجے کی صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جو ہم سے اچھا سلوک نہ کریں، ہم سے کٹنے کی کوشش کریں، ہمارے حقوق ادا نہ کریں بلکہ براسلوک کریں ہم ان کے ساتھ بہتر سلوک کرتے رہیں اور ان کے حقوق ادا کرتے رہیں صرف اس لئے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور ہم آخرت میں اس کی نعمتوں بھری جنت کے مستحق بن جائیں۔
رسول کریم نے فرمایا: ’’صلہ رحمی کرنے والاوہ نہیں ہے جو(اپنے رشتہ داروںکی طرف سے کی گئی صلہ رحمی کے) جواب میں صلہ رحمی کرے بلکہ صلہ رحمی کرنے والاتو وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ (اس کے جواب میں) صلہ رحمی کرے۔‘‘ (ترمذی)
قاضی شہر نے فرمایا کہ رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات درست رکھنے کے لئے بہت صبر وتحمل، حوصلہ اور عفو و درگذر کی ضرورت ہے۔ تعلقات کو نبھانے کے لئے خوف خدا کی ضرورت ہے کہ کوئی ہم سے بہتر سلوک کرے یا نہ کرے ہم اللہ کے احکام پر چلتے ہوئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور اس لئے کریں گے کہ اس میں خدا کی رضا اور اس کا حکم ہے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: ’’جو مسلمان لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ کہیںبہتر ہے اس شخص سے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اپنی مرضیات پر چلائے (آمین ۔









