بھوپال، 2 اکتوبر: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں انتظامی نظام، صحت خدمات، قبائلی بہبود اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر درہم برہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاگھاٹ میں غذائی قلت سے معصوم قبائلی بچوں کی اموات، چھندواڑہ میں زہریلے کھانسی کے سیرپ سے بچوں کی ہلاکتیں، ساگر میں زہریلی شراب کا سانحہ اور اندور میں آلودہ پانی سے شہریوں کی اموات حکومت کی لاپرواہی کا واضح ثبوت ہیں جن پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو محض بیانات دینے کے بجائے عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی بھوپال آمد پر ان سے سوال کیا کہ ریاست پر تقریباً چار لاکھ کروڑ روپے کے قرضے، فی کس 80 ہزار روپے کے بوجھ، بچوں کی اموات اور انتظامی انارکی کی ذمہ داری آخر کون لے گا؟ نیز پٹواری نے بالاگھاٹ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے دورے کے موقع پر کلکٹر اور ایس پی کی عدم موجودگی کو پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس معاملے پر اسمبلی میں استحقاق شکنی کی تحریک لانے اور صدر جمہوریہ سمیت مرکزی وزارت داخلہ کو شکایت بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔
جیتو پٹواری نے بی جے پی حکومت کے اندرونی اختلافات اور وزراء و افسران کے مابین عدم ہم آہنگی کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ راجندر شُکل، کیلاش وجے ورگیہ، سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے فون افسران کی جانب سے نہ اٹھائے جانے اور وزراء کے آپسی تنازعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت میں مکالمہ ختم ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے قبائلی فلاح و بہبود کے لیے مختص بجٹ کے غیر شفاف استعمال پر آزادانہ تحقیقات، جنگلاتی پٹوں کی فوری فراہمی اور منریگا کے بحال کرنے کی مانگ کی۔ پٹواری نے امت شاہ سے چھ بنیادی سوالات پوچھے جن میں وزراء اور وزیر اعلیٰ کے مابین رابطے کا فقدان، چھندواڑہ میں ادویات کی جانچ میں غفلت، ساگر میں غیر قانونی شراب کی سپلائی پر محکمہ آبکاری کی خاموشی، قبائلی علاقوں میں صحت و غذائیت کے بحران، اندور کے آلودہ پینے کے پانی کی شفاف جانچ اور ریاست پر بڑھتے ہوئے بے تحاشا قرضوں اور سرکاری وسائل کے شاہانہ اخراجات کے حساب طلب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ محض کمیٹیاں بنا کر معاملات کو دبانے کے بجائے متعلقہ وزراء اور قصوروار افسران کے خلاف سخت ترین قانونی و تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔









