بھوپال، 26 ستمبر:(پریس ریلیز) بروز ہفتہ، دوپہر 12:30 بجے، لگھو کتھا شودھ کیندر سمیتی ، بھوپال نے اپنے دفتر، ہندی بھون میں نے اپنا دسواں یومِ تاسیس نہایت جوش و خروش اور خوشی کے ساتھ منایا۔
اس موقع پر لگھو کتھا شودھ کیندر سمیتی کی ڈائریکٹر کانتا رائے نے تمام مہمانوں اور شرکائے تقریب کا پُرتپاک خیرمقدم کیا اور شودھ کیندر کے اب تک کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بہت سی سماجی ذمہ داریاں بھی ہیں، جنہیں پورا کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہندوستان کی جو عظیم تہذیبی و ثقافتی میراث ہے، اس کا تحفظ کرنا ہے۔ ماحولیات سے متعلق مسائل کو محسوس کرنا ہے۔ ہمیں ابھی تحقیق کے میدان میں بہت سا کام کرنا ہے۔ آپ سب گزشتہ دس برسوں سے اس مرکز کے ساتھ وابستہ رہے۔ آپ نےلگھو کتھا شودھ کیندرکے مقاصد کو سمجھا اور ہمارا ساتھ دیا۔ میں آپ سب کی شکر گزار ہوں۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر وکاس دوے نے کہا کہ :حسّاسیت اور احساس لگھو کتھا کی روح ہے۔ ہندی بھون میں لگھو کتھا شودھ کیندر کا دفتر ہندی بھون کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہندی بھون زبان و ادب کی سرگرمیوں کا مرکز بنے۔ بلاشبہ لگھو کتھا شودھ کیندر کی ریاضت اور جدوجہد کو اس سے تقویت ملی ہے۔ ابتدا میں لوگوں کو کسی نئی کوشش کو قبول کرنے میں وقت ضرور لگتا ہے، لیکن اب لگھو کتھا شودھ کیندر اپنی شناخت اور نیک نامی کے مقام تک پہنچ چکا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لگھو کتھا کبھی بونسائی کی طرح محدود اور مختصر نہ ہو، بلکہ عطر کی طرح اپنی خوشبو بکھیرتا رہے۔
مہمان خصوصی مالتی بسنت نے کہا کہ اس مرکز کو نو برس مکمل ہو گئے ہیں۔ نو تکمیل کا عدد ہے۔ میرے اپنے گھر میں ہی اس مرکز کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لگھو کتھا ایک ایسی صنف کے طور پر ابھری ہے جسے سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔سینئر ادیب راجندر شرما اکشر نے کہا کہ تلمیح و ایما (اشارہ) کوئی صنف نہیں ہے، بلکہ لگھو کتھا ایک مکمل ادبی صنف ہے۔ اس کی اپنی ایک مکمل ساخت اور نظامِ تشکیل ہے۔سینئر ادیبہ کانتی شکلا نے کہا کہ کانتا رائے نے نہایت دشوار حالات سے گزر کر لگھو کتھا شودھ کیندر کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ لگھو کتھا شودھ کیندر سمیتی کے سکریٹری گھن شیام میتھل امرت نے اپنی مؤثر نظامت سے تقریب کو یادگار بنا دیا۔آخر میں مظفر اقبال صدیقی نے تمام مہمانوں، ادیبوں اور شرکائے تقریب کا پُرخلوص شکریہ ادا کیا۔تقریب میں متعدد ادیب، صحافی اور اہلِ قلم آخر تک موجود رہے۔









