مظفرپور، 26 ستمبر (پریس ریلیز) مدرسہ حسینیہ صدیقیہ، رحیم پور رکسا، ضلع مظفرپور میں دارالقضاء کے قیام کے سلسلے میں ایک اہم اور خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علماء، ذمہ دارانِ مدرسہ اور اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔ اجلاس مولانا ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی ، خلیفہ و مجازِ بیعتِ شیخِ طریقت حضرت مولانا محمد قمر الزماں صاحب الہ آبادی، کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت مرکزی دارالقضاء، امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ کے صدرِ قاضی مولانا قاضی محمد انظار عالم قاسمی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمد توصیف قاسمی نے انجام دیے۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔ مدرسہ حسینیہ صدیقیہ کے مہتمم مولانا محمد سلطان قاسمی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کے انعقاد کے لیے اپنی بھرپور محنت اور حسنِ انتظام کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نےدارالقضاء کی اہمیت و ضرورت کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکاح، طلاق، خلع، وراثت، حقوقِ زوجین اور دیگر عائلی و شرعی معاملات مسلمانوں کی نجی و خاندانی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے معاملات میں شریعتِ مطہرہ کے اصول و احکام سے واقف اہلِ علم کی رہنمائی نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ رحیم پور رکسا اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کو ان معاملات کے لیے مظفرپور کا طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے بالخصوص خواتین، بزرگوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو وقت، اخراجات اور سفر کی مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے اس خطے میں ایک منظم دارالقضاء کا قیام اہلِ علاقہ کی ایک اہم ضرورت ہے۔انہوں نے حضرت امیرِ شریعت دامت برکاتہم العالیہ کی منظوری و رہنمائی حاصل ہونے کے بعد اس علاقے میں دارالقضاء کے قیام کی درخواست بھی پیش کی۔اجلاس کے دوران یہ بھی ذکر کیا گیا کہ حال ہی میں شیخِ طریقت حضرت مولانا محمد قمر الزماں صاحب الہ آبادی نے مولانا ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی کو خلافت و اجازتِ بیعت سے سرفراز فرمایا ہے۔اس سعید موقع پر اجلاس کی جانب سے رومال پوشی کے ذریعے حضرت کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور اس روحانی اعزاز پر مبارک باد پیش کی گئی۔صدرِ اجلاس مولانا قاضی محمد انظار عالم قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں دارالقضاء کے مقاصد، اس کی افادیت اور عملی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ نکاح، طلاق، خلع، وراثت اور حقوقِ زوجین جیسے معاملات میں مسلمانوں کو شرعی رہنمائی اور نظامِ قضاء سے وابستہ رہنا چاہیے، تاکہ باہمی تنازعات کو قرآن و حدیث اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں حکمت، عدل اور خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جا سکے۔ اس سے نہ صرف خاندانی اختلافات کے حل میں مدد ملے گی بلکہ معاشرے میں باہمی اعتماد اور دینی شعور بھی فروغ پائے گا۔
قاضی محمد انظار عالم قاسمی نے اپنے خطاب میں امارت پبلک اسکول کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اہلِ علاقہ کی جانب سے اس مقصد کے لیے چھ کٹھا زمین فراہم کی جا رہی ہے، جو ایک حوصلہ افزا اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس موقع پر دینی اقدار کے ساتھ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔اجلاس کا اختتام قاضی محمد انظار عالم قاسمی کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔پروگرام کی کامیابی میں مدرسہ کے سیکریٹری جناب جسیم احمد صاحب، صدرِ کمیٹی جناب حاجی افتخار صاحب، کمیٹی کے اراکین اور خصوصاً جناب ماسٹر محمد آصف علی صاحب کی بھرپور تائید، تعاون، محنت اور حسنِ انتظام نمایاں رہا۔اجلاس کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ذمہ داران کی منظوری و رہنمائی کے بعد رحیم پور رکسا میں دارالقضاء کا قیام عمل میں آئے گا، جو اس وسیع علاقے کے مسلمانوں کے لیے شرعی رہنمائی اور عائلی مسائل کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔