بھوپال: 25 ستمبر(پریس ریلیز) بھوپال گرین ہاؤس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور مدھیہ پردیش کے پولی ہاؤس و نیٹ ہاؤس کسانوں نے جمعہ کو قومی باغبانی بورڈ کے نائب ڈائریکٹر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے 21 اگست اور 3 ستمبر 2026 کے خطوط واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کسانوں نے کہا کہ ان خطوط سے محفوظ زراعت کے لیے امداد کم ہونے اور نئی درخواستیں رکنے سے پولی ہاؤس منصوبوں کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق 21 اگست کے خط میں محفوظ زراعت کی امداد 50 فیصد سے کم کر کے 35 فیصد کر دی گئی، جبکہ یہ کمی ان درخواستوں پر بھی لاگو کی گئی جن کی منظوری اور بینک فنانس پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا۔ خط میں خاندان کے ایک فرد کی مدد لینے پر پورے خاندان کے لیے تاحیات پابندی، کسان گروپوں کا خاتمہ، زمین کو منصوبے کی لاگت سے باہر کرنا اور درخواست فیس 50 ہزار روپے مقرر کرنے جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔یادداشت میں بتایا گیا کہ 3 ستمبر کے خط کے بعد نئی درخواستیں معطل کر دی گئیں اور پورٹل بند کر دیا گیا۔ جون 2026 کے بعد سے پولی ہاؤس منصوبوں کے لیے ایک بھی گرانٹ آف کلیئرنس جاری نہیں ہوئی، جس کے باعث کئی کسانوں کے منصوبے زیرِ التوا پڑے ہیں۔
کسانوں نے مطالبہ کیا کہ 21 اگست سے قبل کی تمام منظوریاں پرانے قواعد کے مطابق 50 فیصد امداد پر مکمل کی جائیں، فائلوں کو GoC Issued سے GoC Query میں تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور امداد دوبارہ 50 فیصد کی جائے۔ انہوں نے خاندان پر عائد تاحیات پابندی ختم کرنے، پولی ہاؤس کے مواد پر جی ایس ٹی 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے اور محفوظ زراعت کے بجٹ میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا۔یادداشت میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر سات دن کے اندر دونوں خطوط واپس نہیں لیے گئے تو دس ریاستوں کے کسان گروگرام میں باغبانی بورڈ کے مرکزی دفتر اور نئی دہلی میں احتجاج کریں گے۔









