بھوپال:25ستمبر:اللہ وحدہٗ لاشریک کا بے پایاں احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں انسان بناکر ایمان جیسی دولت سے مالامال فرمایا ۔ایمان کی دولت دے کر گویا ہمیں اس بات کا پابند بنایا گیا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرکے خود کو ایک عظیم المرتبت انسان اور ایک فرماں بردار بندہ بن کر اللہ کے حضور پیش ہوں اور اللہ کے اکرام و انعام کے مستحق بنیں ۔مذکورہ باتیں آج نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے اپنے خطاب میں کہیں ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے یہاں کوئی انسان اپنی انفرادی زندگی جی ہی نہیں سکتا ،انسان فطرتاً معاشرتی مزاج رکھنے والی مخلوق ہے ، اس کا وجود خاندان کے ایک رکن اور معاشرہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ہی پایا جاتا ہے لہذا شریعت مطہرہ کی طرف سے معاشرہ اور خاندان کی تشکیل کیلئے سب سے اعلیٰ اور افضل طریقہ نکاح کا نظام مقرر ہے جس کے ذریعے ایک انسان اپنی جنسی تسکین کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کو آگے بڑھانے کا کام کرتا ہے ۔ظاہر ہے خاندانی اور معاشرتی نظام کی بقا و استحکام کیلئے بنیادی اکائی میاں بیوی کے باہمی رشتے ہیں جن کے ایک دوسرے پر کچھ حقوق ہیں:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کردے۔اس حوالے سے قرآن مقدس نے مثال پیش کی ہے ،قربان جائوں اس کتاب مبین پر ،آج تک اس دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں آئی اور تاقیامت آئے بھی نہیں جو قرآن پاک کی جامعیت اور اس کی گہرائی کا ادنیٰ درجے پر بھی مقابلہ کرسکتی ہو۔آج ہم جس رشتے کو محض کھلونا سمجھتے ہیں ، جب تک دل چاہا کھیلا اور دل بھر گیا اٹھا کر پھینک دیا ،،سنئے قرآن کیا کہتا ہے ۔’’ بیوی شوہر کا لباس ہے اور شوہر بیوی کا لباس‘‘ غوطے لگائیے اس مختصر جملے کی گہرائی و گیرائی میں،فہم و دانائی کے دریچے کھلتے چلے جائیں گے ۔ ایک انسان بہت عمدہ لباس میں آپ کے سامنے موجود ہے ،آپ اس کے لباس کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ کتنا نفیس الطبع انسان ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں اس نے کرتے کے نیچے کیسی گنجی پہنی ہے ،اس گنجی میں کتنے سوراخ ہیں اور وہ کتنی میلی ہے؟ نہیں آپ نہیں جانتے ،آپ کا فیصلہ اس شخص کے سب سے اوپر والے لباس یعنی کرتے پر ہے ،آپ کو نہیں معلوم اس کی پیٹھ میں کتنے پھوڑے پھنسی ہیں۔ ایک کرتے نے اس شخص کے کتنے عیب چھپا رکھے ہیں ، میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس اسی لئے قرار دیا گیا ہے ،بیوی کی کمی کی پردہ پوشی شوہر کرے اور شوہر کی کمی کی پردہ پوشی بیوی کرے ۔دونوں ایک دوسرے کا عیب چھپائیں ۔ مگر بدقسمتی تو دیکھئے کہ آج کا مسلم معاشرہ کہاں جارہا ہے ۔شوہر اپنی بیوی کے معمولی عیب کو بھی سرعام کرتا رہتا ہے جب کہ بیوی بھی اپنے شوہر کے ادنیٰ عیب کی پردہ پوشی گوارہ نہیں کرتی ،بسا اوقات تو دونوں ایک دوسرے کے عیب کو بڑھا چڑھاکر سناتے ہیں ۔
قاضی شہر نے بتایا کہ مجھے آئے دن ایسے ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب میاں بیوی سچ کم اور جھوٹ زیادہ بول رہے ہوتے ہیں ۔ایسے ناخوشگوار حالات جبھی پیدا ہوتے ہیں جب میاں بیوی اپنے رشتے کو اسلامی سوچ کے مطابق آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ نماز کی نیت کرکے نماز میں داخل ہونے کے بعد اگر ہمیں بدن میں کھجلی آئے تو ہم برداشت کرتے ہیں ،پیشاب کا احساس یا بدن میں درد ہو تو بھی ہم اپنی نماز کو سلام تک بچائے رکھتے ہیں کیوں کہ ہم نے نیت کرلی ہے کہ ہم اپنی نماز سلام تک باقی رکھیں گے مگر نکاح جیسے مقدس رشتوں کیلئے کئے گئے عید و پیمان اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کی نیت کو معمولی اختلاف کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں ۔ نہ شوہر بیوی کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور نہ بیوی کو شوہر کے جذبات کا خیال ہوتا ہے ،بالآخر ایک بسابسایا گھر برباد ہوجاتا ہے ۔یاد رکھئے نکاح سنت رسول ہے ،آپ کو نکاح کے بقا اور اسے خوبصورت بنائے رکھنے کیلئے ہر اس عمل کی پیروی کرنی ہوگی جو عمل رسول اکرم ﷺ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بحیثیت میاں بیوی اختیار کئے ۔خطاب کے آخر میں قاضی شہر نے اس بات کی طرف خاص توجہ دلائی کہ نوجوان نکاح میں تاخیر نہ کریں ،پاک اور مقدس رشتے میں بندھ کر سنت رسول کو زندہ کریں اور نسلی انسانی کو آگے بڑھانے میں اپناذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔آج گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی وبا طرف پھیلی ہے ،یہ وبا معاشرے کیلئے کینسر کی مانند ہے ،بچیں اس مہلک مرض سے ۔یہ ایسی وبا ہے جو دنیا بھی تباہ کردیتی ہے اور آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے ۔آپ نوجوان ملت کا اثاثہ ہیں،اپنی جوانی اور توانائی ملت کی تعمیر میں صرف کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام سوچ کے مطابق رشتے کو نبھانے کی توفیق دے۔