نئی دہلی18ستمبر: دہلی کے سوروپ نگر علاقے میں ایک کم عمر لڑکی کے اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 3 نابالغوں سمیت 4 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ راہل گاندھی نے جمعہ کو ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ دہلی میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، اس کے بعد اسے قتل کر کے لاش کھلے میدان میں پھینک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں اتنا سنگین واقعہ پیش آیا اور پولیس کو کئی دن تک اس کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی ہے کہ دہلی آج راجدھانی نہیں، خواتین کے لیے ہر دن کی خوفناک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس ان کے ماتحت ہے اور خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟ کانگریس رہنما نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا دہلی پولیس کا کام صرف عام شہریوں کو ڈرانا اور دھمکانا رہ گیا ہے، کیونکہ جرائم پیشہ عناصر بے خوف گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، ان کے خلاف سخت کارروائی ہو اور سزا دلائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے میں ’مجرمانہ غفلت‘ کی جواب دہی طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دہلی پولیس کے مطابق سوروپ نگر کے کشک روڈ کے قریب 13 ستمبر کی صبح ایک کھلے میدان میں لڑکی کی لاش ملی تھی۔ لاش انتہائی خراب حالت میں تھی اور جانوروں نے اسے نوچ ڈالا تھا، جس کے باعث ابتدائی طور پر مقتولہ کی شناخت اور جنس تک واضح نہیں ہو سکی تھی۔ بعد میں شناخت ہونے پر معلوم ہوا کہ مقتولہ کم عمر لڑکی تھی۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش کے دوران جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں نصب 50 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی۔ فوٹیج میں ایک مشتبہ ٹیمپو کی آمدورفت نظر آئی۔ اندھیرے کی وجہ سے ابتدا میں اس کا رجسٹریشن نمبر واضح نہیں ہو سکا، تاہم مختلف کیمروں کی فوٹیج کو جوڑ کر پولیس نے اس کے راستے کا سراغ لگایا۔