نئی دہلی 17ستمبر: پشکر سنگھ دھامی حکومت نے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی کے مجوزہ پروجیکٹ کو کیوں ختم کیا؟ث 84 ٹنڈر شرائط میں تبدیلی کیوں کی گئی؟ث کیا یہ ٹنڈر ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا؟ثایسی شرط کیوں رکھی گئی کہ پاور پلانٹ اتراکھنڈ کے باہر بھی لگایا جا سکتا ہے؟ثاڈانی پاور کو 25 سال تک ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ کیوں دیا گیا؟ث’موڈانی ماڈل‘ کو کامیاب کرنے کے لیے اتنے اصول کیوں توڑے گئے؟ یہ سوالات کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان پون کھیڑا نے آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں اٹھائے ہیں۔ انھوں نے اتراکھنڈ کی پشکر سنگھ دھامی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اڈانی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں، اس لیے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی سے متعلق مجوزہ پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا اور اڈانی پاور کو 25 سال تک کے لیے ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ فراہم کر دیا گیا۔
میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’پشکر سیلنگ اتراکھنڈ (پشکر اتراکھنڈ کو فروخت کر رہے ہیں)، ہم ایسی بات کیوں کر رہے ہیں، وہ آپ کو سمجھ میں جلد آ جائے گا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ٹی-20 کرکٹ ٹیم کی طرح ہی بی جے پی کے پاس بھی ایک ’420 ٹیم‘ ہے۔ بی جے پی کی اس ٹیم نے 86 اصولوں میں سے 84 اصول تبدیل کر دیے۔ پھر ان بدلے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر ٹنڈر کے عمل کو بدلا گیا اور کام اڈانی کو سونپ دیا گیا۔ یعنی ایک بار پھر سے ’گوتم شرنم گچھامی‘ ہو گیا۔‘‘ اس ٹنڈر سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’2024 میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کوئلہ وزیر کو ایک تجویز بھیجی کہ ہم جوائنٹ ونچر کے تحت 1320 میگا واٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگائیں گے۔
یہ جوائنٹ ونچر (یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی) کا ہوگا، جو راؤنڈ دی کلاک کام کرے گا تاکہ ریاست میں بجلی سپلائی کم نہ ہو۔









