نئی دہلی17ستمبر: وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی فراہمی، ملک بھر میں پیپر لیک کے واقعات پر روک لگانے اور ستیہ نکیتن بلڈنگ حادثے میں جواب دہی یقینی بنانے کے مطالبات کو لے کر آج ’تالی تھالی مارچ‘ نکالا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں یہ احتجاج تنظیم کے ہیڈکوارٹر، 5 رائسینا روڈ، نئی دہلی سے شروع ہوا۔ این ایس یو آئی ہیڈکوارٹر کے باہر تقریباً 100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے بیریکیڈنگ کیے جانے اور مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کیے جانے کے باعث مارچ کو جنتر منتر کی جانب آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا، ’’وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر ہم انہیں طویل عمر اور صحت مند زندگی کی مبارکباد دیتے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم کے سامنے ہمارا پیغام بھی بالکل واضح ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کو ہاسٹل چاہیے۔ ملک بھر میں پیپر لیک کے واقعات بند ہونے چاہئیں اور طلبہ کو محفوظ اور شفاف تعلیمی نظام ملنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایک جانب ملک بھر میں سالگرہ کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب دہلی یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ مہنگے کرایوں اور ناکافی ہاسٹل سہولیات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مناسب تعداد میں ہاسٹل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے طلبہ کو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کرائے پر خرچ کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ این ایس یو آئی نے دہلی حکومت کی جانب سے 10 ہزار طلبہ کے لیے ہاسٹل بنانے کے حالیہ اعلان پر بھی سوال اٹھائے۔ تنظیم نے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ہاسٹلوں کی تعمیر اور آپریشن کے حوالے سے فوری طور پر ایک واضح اور شفاف معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کیا جائے۔
این ایس یو آئی کے مطابق اس ایس او پی میں عمل درآمد کا طریقہ، ٹائم لائن، اہلیت کے معیار، الاٹمنٹ کا طریقۂ کار اور نگرانی کے نظام سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔









