کولکاتا، 15 ستمبر: کلکتہ ہائی کورٹ نے تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر بغیر مناسب قانونی عمل کے ایک دو منزلہ تجارتی عمارت منہدم کیے جانے کے معاملے میں سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے متاثرین کو بڑی راحت دیتے ہوئے انتظامیہ کو نئی عمارت تعمیر کر کے دینے، اس وقت تک مفت متبادل رہائش فراہم کرنے اور 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سرکاری زمین پر مبینہ قبضے کی شکایت کے بعد انتظامیہ کی ٹیم بلڈوزر لے کر موقع پر پہنچی اور وہاں موجود دو منزلہ تجارتی عمارت کو منہدم کر دیا۔ متاثرین نے اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا موقف تھا کہ عمارت گرانے سے قبل ضروری قانونی کارروائی اور مناسب طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔عدالت نے معاملے کی سماعت کے دوران دستیاب ریکارڈ اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض تجاوزات کا الزام لگنے کی بنیاد پر کسی شہری کی جائیداد کو قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر منہدم نہیں کیا جا سکتا۔