وڈودرا، 8 ستمبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے وڈودرا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ملک کی نئی نسل یعنی ’جین زی‘ سے تقریباً 25 منٹ تک براہِ راست خطاب کیا۔ تقریب کے آغاز میں ان کے اسٹیج پر پہنچتے ہی عالمی شہرت یافتہ برطانوی بینڈ کوئن کا مقبول نغمہ ’وی وِل راک یو‘ اور فلم ’دھرندھر‘ کا گانا ’آری آری‘ بجا کر نوجوانوں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا گیا۔ وزیر اعظم کے لیے تقریب گاہ میں خصوصی طور پر انگریزی حرف ’Y‘ کی شکل کا ایک ریمپ بنایا گیا تھا جس پر چل کر وہ تقریب میں مدعو 6 ہزار سے زائد طلبہ اور نوجوانوں کے بالکل قریب پہنچے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر جھوٹ کے شور سے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انہیں ہمیشہ سچائی کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا؛ سیاسی مبصرین ان کے اس بیان کو راہل گاندھی اور کانگریس کی مہم پر بالواسطہ طنز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں کے مطابق جنتر منتر پر ہوئے نوجوانوں کے احتجاج کے بعد بی جے پی کی حکمتِ عملی کا بڑا محور جین زی نسل بن چکی ہے، خصوصاً اس لیے کہ آئندہ سال 7 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں اتر پردیش سرفہرست ہے جہاں اکیلے 2.8 کروڑ نوجوان ووٹرز موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کل رائے دہندگان کا 22.78 فیصد حصہ 18 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، یعنی ملک کا ہر چوتھا ووٹر اسی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے پچھلے چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ساتھ اپنے رابطے کو کافی تیز کیا ہے، جس میں پیپر لیک کے سنگین مسئلے پر فرنٹ کیمرے سے سیلفی ویڈیوز جاری کرنے سے لے کر انسٹاگرام ریلز کے جدید فارمیٹ میں بات چیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ وزراء کو بھی یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے دورے کرنے کے احکامات دیے گئے تھے جبکہ دہلی کے شری رام کالج آف کامرس کے پروگرام میں بھی انہوں نے نوجوانوں کے جدید الفاظ جیسے ’او جی‘ اور ’فلیکس‘ کا استعمال کر کے اس بااثر طبقے کے ساتھ اپنی وابستگی مزید مستحکم کی تھی۔









