سہارنپور، 8 ستمبر: تاریخی کلکٹریٹ مسجد کے اندوہناک انہدام کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خصوصی ہدایت پر ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی مرکزی وفد سہارنپور پہنچا۔ وفد نے سابق رکنِ پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، موجودہ رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود، اراضی سے وابستہ مرحوم یعقوب خان کے پوتوں، مقامی ذمہ داران اور سرکردہ قانونی ماہرین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر سنجیدہ غور و خوض کیا۔ ان قانونی و سماجی مشاورتوں کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا کہ جس دستاویز کی بنیاد پر انہدام کا فیصلہ دیا گیا وہ عدالتی ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں تھی، جبکہ ’قیصرِ ہند‘ یا ’سرکارِ ہند‘ کے عنوان سے دیا گیا حوالہ متنازع زمین کی ملکیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ وہ ایک الگ کھتونی سے متعلق ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو یکسر پامال کیا گیا۔
مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ فریق کو قانونی دفاع اور آئینی حقوق کے استعمال کا مناسب موقع دیے بغیر عجلت میں بلڈوزر چلا دینا سراسر غیر منصفانہ اور دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں پر ضرب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد کی ملکیت سے وابستہ تمام تاریخی دستاویزات، ریونیو ریکارڈ اور شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جنہیں مولانا محمود مدنی کے سامنے پیش کر کے ان کی رہنمائی میں جلد از جلد اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے عہد دہرایا کہ جمعیۃ ہر قانونی دروازے پر دستک دے گی اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے مضبوط ڈھال بنی رہے گی، ساتھ ہی انہوں نے اس صدمے اور آزمائش کے دوران بھی امن و امان، تاریخی بھائی چارے اور رواداری کو قائم رکھنے پر سہارنپور کے باشعور عوام کی گنگا جمنی یکجہتی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔