بھوپال:07؍ستمبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ایتھوپیا کے صدر عزت مآب تائے اتسکے سیلاسی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے امکانات کے ساتھ ساتھ بھارت-ایتھوپیا اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ایتھوپیا کے صدر کو مدھیہ پردیش میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع، سازگار صنعتی ماحول اور مختلف شعبوں میں موجود امکانات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش بھارت کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ریاست میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع مسلسل پیدا کیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ایتھوپیا کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے ایتھوپیا کے صدر کو مدھیہ پردیش میں مجوزہ گلوبل انویسٹرس سمٹ (GIS) میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعہ مدھیہ پردیش کو سرمایہ کاری، صنعت اور اختراع کا ایک اہم مرکز بنانے کی سمت میں مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھارت-ایتھوپیا اقتصادی شراکت داری کو نئی رفتار دینے پر زور
ملاقات کے دوران بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسیع کرنے اور مدھیہ پردیش و ایتھوپیا کے درمیان سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اپنے دبئی دورے کے دوسرے دن متحدہ عرب امارات کی سپریم کونسل کے رکن اور رس الخیمہ کے حکمران شیخ سعود بن صقر القاسمی سے ملاقات کی۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور ریاست میں دستیاب مختلف صنعتی و کاروباری مواقع کے بارے میں معلومات دیں۔ ملاقات میں مدھیہ پردیش اور رس الخیمہ کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، سرمایہ کاروں کے درمیان رابطے اور بازار تک رسائی بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان سیرامک اور تعمیراتی اشیاء، فارماسیوٹیکلز اور میڈیکل ڈیوائسز، سیاحت و مہمان نوازی، فوڈ پروسیسنگ، لاجسٹکس اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان ادارہ جاتی رابطہ مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش میں زمین کی نشاندہی، ضروری اجازت ناموں، بنیادی ڈھانچے سے متعلق سہولیات اور ریاستی سطح پر نوڈل تعاون کے ذریعے بروقت سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں بھی بات چیت ہوئی۔ رس الخیمہ کی کمپنیوں اور اداروں کو مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کرنے اور ترجیحی شعبوں میں تعاون کے شعبوں کی مشترکہ طور پر نشاندہی کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔رس الخیمہ مینوفیکچرنگ، سیرامکس، تعمیراتی اشیاء، فارماسیوٹیکلز، سیاحت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ایک قائم شدہ مرکز ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش اپنی مرکزی جغرافیائی حیثیت، مسابقتی لاگت، دستیاب صنعتی زمین، قائم شدہ بنیادی ڈھانچے اور سنگل ونڈو سہولت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو بھارتی بازار تک مؤثر رسائی فراہم کرتا ہے۔ میٹنگ میں دونوں فریقوں کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کی بنیاد پر تعاون کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔