بھوپال، 5 ستمبر: آج پریس کانفرنس میں ماسٹر پلان کے معاملے پر کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ جواب دیں، اجین میں ماسٹر پلان نافذ کیا گیا تو بھوپال میں کیوں نہیں؟ انہوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی ’اصولی منظوری‘ پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ مسعود نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی اصولی منظوری کا کیا مطلب ہے، یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ ماسٹر پلان نافذ ہونے سے پہلے ڈرافٹ تیار کر کے اسے شائع کرنا ہوگا۔ اس کے بعد دعووں اور اعتراضات کا عمل شروع ہوگا جس میں 05 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔عارف مسعود نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں تیار کردہ ماسٹر پلان کا ڈرافٹ پہلے سے موجود ہے اور اسے منسوخ کرنے کا کوئی حکم بھی جاری نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں نیا ڈرافٹ تیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ حکومت کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے منظوری کی بات محض معاملے کو ٹالنے کی کوشش ہے۔
عارف مسعود نے کہا کہ ’رن فار ماسٹر پلان‘ کے تحت بھوپال دوڑے گا۔ انہوں نے ماسٹر پلان کے حوالے سے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 09 ستمبر کی صبح 07.30 بجے 11 نمبر سے حبیب گنج تھانے کے سامنے واقع گاندھی جی کے مجسمے تک ’رن فار ماسٹر پلان‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل اس دوڑ میں شہریوں سے شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔
پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ دوڑ میں شرکاء کے ہاتھوں میں ترنگا ہوگا، کسی سیاسی جماعت کا بینر نہیں لگایا جائے گا اور نہ ہی کسی فرد کے خلاف نعرے بازی ہوگی۔ انہوں نے تاجروں، ڈاکٹروں، سول سوسائٹی، این جی اوز اور عام شہریوں سے اس دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔
تقریباً 35 علاقوں میں آج 6 گھنٹے تک بجلی بند رہے گی
بھوپال، 5 ستمبر: راجدھانی کے تقریباً 35 رہائشی اور تجارتی علاقوں میں اتوار کے روز ضروری مینٹیننس کے سبب مسلسل 6 گھنٹے بجلی کی ترسیل معطل رہے گی۔ بجلی کمپنی کے مطابق ترسیلی نظام کی دیکھ بھال اور مرمت کے پیشِ نظر صبح 10 سے شام 4 بجے تک بجلی بند رکھی جائے گی، جس کے باعث شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ضروری کام پیشگی نمٹا لیں تاکہ کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔بجلی بندش سے نئے اور پرانے شہر کے متعدد اہم علاقے متاثر ہوں گے، جن میں گووند پورا مارکیٹ، گووند گارڈن کالونی، نیو سبھاش نگر، ارجن نگر، اشوک نگر، چمبل کالونی، شالیمار کمپلیکس، اشوکا انکلیو، باغ دلکشا، پل بوگدہ، نواب کالونی، شیو نگر فیز 1 تا 4، دیوکی نگر، پنا نگر، ہاؤسنگ بورڈ کالونی، لال گھاٹی، بریلا گاؤں، کوہِ فضا روڈ، نقار خانہ، تحصیل روڈ، مالی پورا، پیر گیٹ چوراہہ، لکھیر پورا، گرجر پورا، نیم روڈ، امامی گیٹ،سمیت ملحقہ بستیاں شامل ہیں۔

ریت گھاٹ، سندھی مارکیٹ، علی گنج، چوکی امام باڑہ، نور محل روڈ اور کمہار پورا سمیت ملحقہ بستیاں شامل ہیں۔