بھوپال، 5 ستمبر: مدھیہ پردیش میں جاری موسلادھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے، جس کے باعث ندی نالوں اور ڈیموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور متعدد آبی ذخائر سے اضافی پانی کے اخراج کے لیے گیٹ کھولنے پڑے ہیں۔ دارالحکومت بھوپال میں کلیاسوت ڈیم کے دو گیٹ کھول کر پانی چھوڑا گیا جس سے کلیاسوت ندی میں طغیانی آ گئی، جبکہ نشیبی بستیوں میں الرٹ جاری کر کے شہریوں کو ندی کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ادھر بھوپال کے کولار روڈ پر واقع دانش کنج کے امر ویلی کیمپس کے باہر اچانک سڑک کا بڑا حصہ دھنس گیا جس کے نتیجے میں تین کاریں گہرے ملبے میں دھنس کر پھنس گئیں اور گاڑیوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا؛ زمین بیٹھنے کے اس واقعے نے آٹھ منزلہ رہائشی عمارت کے مکینوں میں سخت خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور عمارت کے تعمیری حفاظتی معیارات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شیوپوری میں 130 ملی میٹر، شیوپور میں 82 ملی میٹر اور بھوپال میں 55 ملی میٹر جبکہ گنا، نرمدا پورم، پچمڑھی، اجین، ساگر، رائسین، جبل پور اور گوالیار میں بھی شدید بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ریاست کے مختلف اضلاع میں ڈیموں کے لبریز ہونے پر ہنگامی بنیادوں پر پانی کا اخراج جاری ہے؛ شیوپور کا آودا ڈیم مکمل بھر جانے کے بعد اس کے 4 گیٹ کھول دیے گئے ہیں، ہرسی ڈیم کے ویسٹ ویئر سے ڈیڑھ فٹ اوپر پانی بہہ رہا ہے، جبکہ ٹیکم گڑھ کے بان سجارا ڈیم کے 8 گیٹ کھول کر دھسان ندی میں 668 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شیوپوری کے مڑی کھیڑا ڈیم کے بھی 4 گیٹ کھول دیے گئے ہیں جہاں پانی کی سطح 90.49 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ شیوپور ضلع میں امرال اور کونو ندیاں خوفناک شکل اختیار کر چکی ہیں جس سے مشہور گپتیشور مندر مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا، جبکہ وجے پور کی سبزی منڈی، ریشم کالونی اور تاریخی قلعہ گیٹ کے اطراف پانی داخل ہو گیا ہے۔ طوفانی بارش اور طغیانی کے پیشِ نظر شیوپور، شیوپوری، گنا، مرینا، رائسین، بھنڈ اور گوالیار سمیت 7 اضلاع میں اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کنٹرول روم میں ہنگامی میٹنگ کے دوران بارش اور سیلاب کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست بھر کے متاثرہ علاقوں میں این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں مکمل مستعدی کے ساتھ تعینات ہیں اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران 2,783 سے زائد شہریوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں مانسون بدستور سرگرم ہے اور ریاست کے 19 اضلاع میں بھاری سے انتہائی بھاری بارش کے امکانات کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ نربدا کے تمام اہم گھاٹوں پر عقیدت مندوں کی حفاظت کے لیے ریسکیو اہلکار تعینات کر کے گہری ندی میں اترنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔









