ہے ماں باپ کا پہلے رتبہ بڑا
جو بعد اس کے حق ہے تو استاد کا
5 ؍ستمبر کو پورا بھارت یومِ اساتذہ مناتا ہے۔ یہ دن ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے، جنہوں نے استاد، فلسفی اور ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدوں تک پہنچنے والی شخصیت کی حیثیت سے اپنی زندگی میں تعلیم کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ لیکن یومِ اساتذہ صرف اپنے موجودہ اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن نہیں، بلکہ یہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ تعلیم کے چراغ کو جلانے اور اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے میں کن لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
ایک اچھا استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ طالب علم میں سوچنے، سوال کرنے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے اور معاشرے کے لیے مفید انسان بننے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔اور اب بھارت کی نسل نو کو ہر میدان میں ماہر بنانا ہے۔ لیکن قوم کی تعلیمی تعمیر صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ والدین، سماجی کارکن، تعلیمی ادارے، دانشور اور وہ تمام افراد جو غریب طلباء کی معاونت کرتے ہیں، کسی نوجوان کو اعلیٰ تعلیم کے لیے سہارا دیتے ہیں یا کسی گاؤں میں تعلیم کی شمع روشن کرتے ہیں، وہ بھی اس عظیم مشن کا حصہ ہیں۔
ہمارے تعلیمی سفر کی تاریخ میں ایسی کئی شخصیات گزری ہیں جن کا نام شاید عام نصابی کتابوں میں نمایاں طور پر موجود نہ ہو، لیکن ان کی خدمات نے معاشرے کی سمت بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ساوتری بائی پھولے اور شیخ فاطمہ اس کی روشن مثال ہیں۔ انیسویں صدی میں جب لڑکیوں کی تعلیم کو سماجی مخالفت کا سامنا تھا، ان دونوں خواتین نے تعلیم کو ان طبقات تک پہنچانے کی کوشش کی جنہیں اس سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں لڑکیوں کے لیے قائم ہونے والے اسکول کی جدوجہد میں ساوتری بائی پھولے، جیوتی با پھولے اور شیخ فاطمہ کا اہم کردار تھا۔ شیخ فاطمہ نے اپنے بھائی عثمان شیخ کے ساتھ اس تعلیمی کوشش کو جگہ اور تعاون بھی فراہم کیا۔
یہ تاریخ ہمیں ایک بہت اہم سبق دیتی ہے کہ تعلیم کسی ایک مذہب، ذات یا طبقے کی میراث نہیں، بلکہ ہر انسان کا حق اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ساوتری بائی پھولے اور شیخ فاطمہ کی مشترکہ جدوجہد اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ تعلیم اور سماجی اصلاح کے میدان میں مختلف برادریوں کے لوگ مل کر کام کریں تو معاشرے میں بڑی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرے کو باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، اس مشترکہ تعلیمی ورثے کو یاد کرنا بھی ضروری ہے۔
شیخ فاطمہ اور ساوتری بائی پھولے نے نیز شیخ عثمان نے ان کی مدد کرکے وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا اس زمانے میں جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ آج ہم ماڈرن زمانے میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ، لیکن ذرا غور کیجئے اتنے عرصے پہلے زمانہ کیا رہا ہوگا، اور کیا چیلنجز ان کے سامنے رہے ہوں گے لیکن انہوںنے مشکل وقت میں اتحاد کی مثال قائم کرتے ہوئے تعلیم نسواں کے لئے جو کام کیا ہے وہ یقینا ہر زمانے میں قابل ستائش ہے۔
آج ہمارے سامنے تعلیمی میدان کے مسائل کی نوعیت بدل چکی ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل فون، اے آئی اور ڈیجیٹل ذرائع نے علم تک رسائی آسان کردی ہے۔ ایک بچہ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کی معلومات حاصل کرسکتا ہے، لیکن معلومات اور تعلیم میں فرق ہے۔ معلومات موبائل اور کمپیوٹر سے مل سکتی ہیں، مگر معلومات کو سمجھنے، صحیح اور غلط میں تمیز کرنے، اخلاقی فیصلہ کرنے اور اسے انسانیت کے فائدے میں استعمال کرنے کی تربیت ایک اچھا استاد ہی دے سکتا ہے۔ اسی لیے ٹیکنالوجی استاد کی جگہ لینے کے بجائے استاد کے ہاتھ میں ایک مؤثر ذریعہ بننی چاہئے۔
موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ ترقی کے باوجود ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع حاصل نہیں۔ غریب خاندانوں کے بچے، دیہی علاقوں کے طلباء، پسماندہ طبقات اور خاص طور پر وہ بچیاں جنہیں معاشی یا سماجی مشکلات کا سامنا ہے، آج بھی ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ اگر ہم واقعی یومِ اساتذہ کو بامعنی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ کوئی بچہ صرف غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے اور کوئی بچی صرف سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یومِ اساتذہ کے موقع پر صرف بڑے اور معروف ناموں کو یاد نہ کیا جائے بلکہ اپنے اپنے علاقوں میں خاموشی سے تعلیم کے لیے کام کرنے والے گمنام اساتذہ، سماجی کارکنوں، سرپرستوں اور تعلیمی خدمت گاروں کو بھی تلاش کیا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کسی غریب طالب علم کی فیس ادا کرنا، کسی ضرورت مند بچی کو کتابیں فراہم کرنا، کسی نوجوان کو اسکالرشپ کی معلومات دینا یا کسی بستی میں تعلیم کے لیے لوگوں کو بیدار کرنا بھی دراصل مستقبل کی تعمیر کرنا ہے اور یہ کام صرف اور صرف والدین کے بعد ایک اچھا استاد ہی کر سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اچھا انسان بننا اور اچھا معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔ علم کے ساتھ اخلاق، کردار، برداشت، انسان دوستی اور اپنے ملک کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہماری تعلیمی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہئے۔
آج یومِ اساتذہ کے موقع پر ہم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن سمیت تمام معروف و غیر معروف اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ساوتری بائی پھولے، شیخ فاطمہ ، ان کے بھائی عثمان شیخ اور ان جیسے تمام اساتذہ کو بھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کی مشکلات کے باوجود تعلیم کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایک کتاب، ایک استاد اور ایک مخلص کوشش بھی کسی ایک زندگی ہی نہیں بلکہ پوری نسل کا مستقبل بدل سکتی ہے۔
یومِ اساتذہ کا بہترین تحفہ یہی ہوگا کہ ہم کسی ایک بچے کا ہاتھ تھامیں، اسے تعلیم سے جوڑیں اور یہ عہد کریں کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا چراغ کسی گھر، کسی بستی اور کسی طبقے میں غربت یا محرومی کی وجہ سے نہیں بجھنے دیں گے۔









