بھوپال:4ستمبر:آج قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی دامت برکاتہم نے کلو بوا مسجد بھوپال میں ’عظمت والدین‘ پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی۔ شریعت میں والدین کے ساتھ حْسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ترجمہ) اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اْف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔(بنی اسرائیل )
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ والدین کے ساتھ حْسن سلوک کرو اور اْف تک بھی نہ کہو،والدین کااحترام و اکرام دینی و دنیاوی بہتری کا سبب ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین کے ساتھ حْسن سلوک رکھتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔
رسول کریم ﷺ نے ہمیں والدین سے حْسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ بتائوں؟ لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یارسول اللہ ، آپ ﷺ نے فرمایا، اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اورنہ والدین کی نافرمانی کرنا۔
والدین کی حیثیت گھر میں نگراں کی ہے۔ اولاد اگر سنجیدگی اور تدبر سے کام لے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے بعد صحیح معنوں میں قابل احترام اور لائق اطاعت اگر کوئی ہستی ہے تو وہ والدین ہیں۔والدین کی اطاعت اور فرما نبرداری بھی عبادت میں داخل ہے، لیکن اگر والدین کوئی ایسا حکم دیں جو شریعت کے خلاف ہو تو ان کی اطاعت فرض نہیں بلکہ شریعت کی اطاعت ضروری ہے۔ والدین کا مقام و مرتبہ اس قدر اہم ہے کہ توحید و عبادت کے بعد اطاعت و خدمت والدین کو ضروری قرار دیا گیا کیونکہ جہاں انسانی وجود کا حقیقی سبب اللہ ہے تو وہیں ظاہری سبب والدین۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گنا ہ والدین کی نافرمانی ہے،جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔(صحیح بخاری)۔
ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ) ’’اور اپنے والدین کو جھڑک مت اور ان سے نرمی سے پیش آ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ پوری زندگی والدین کیلئے دعا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ چنانچہ فرمایا (ترجمہ) اور آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے رب میرے والدین پر رحم کر جس طرح بچپن میں انہوں نے میری تربیت کی۔(بنی اسرائیل: 25)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا والدین کی فرمانبرداری۔ (صحیح بخاری)
قاضی شہر نے فرمایا کہ ہمیں والدین کی عظمت و توقیر کا علم اور احساس اسی وقت ہوگا جب ہم سیرت رسول کا مطالعہ کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ معلم اخلاق،سید الانبیاء رسول رحمت ﷺ نے والدین کی اطاعت و فرماں برداری کی کس قدر تاکید فرمائی ہے۔اللہ کے رسول نے جہاں جہاں اللہ کی عبادت کی تاکید و ترغیب فرمائی ہے وہیں وہیں والدین کی فرماں برداری اور اطاعت کی بھی تعلیم دی ہے ۔اس سے یہ امر واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ ہم جیسے اللہ کے حقوق واجب ہیں اسی طرح والدین کے حقوق بھی واجب ہیں ۔ اللہہ کے حقوق ادا نہ کرنے پر جو وعیدیں سنائی گئی ہیں ،والدین کی نافرمانی پر بھی اسی انداز میں اولادوں کو خبر دار کیا گیا ہے ۔لہذا والدین جیسی عظیم نعمت اور ان کے سایے کو ہم اپنے لئے بڑی رحمت سمجھیں اور ان کی خدمت کرکے ہم اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی کوشش کریں ۔آج بہت افسوس ہوتا ہے ، بھوپال کے کئی والدین اپنی اولادوں کا شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں ان کے حقوق ادا نہیں کرتیں ۔افسوس ہے ایسی اولادوں پر جن پر ان کے والدین نے اپنی پوری جوانی صرف کردی مگرجببوڑھے ہوگئے تو اولادوں کو ان کی پرواہ نہیں۔یاد رکھیں ایسے نافرمان لوگ ’جیسے کو تیسا‘ کے تحت وہ بھی نمبر میں ہیں ۔اس لئے ہوش کے ناخن لیںاوروالدین کی خدمت کرکے اپنی اولادوں کو پیغام دیں کہ وہ بھی آئندہ کل ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔