اسلام آباد:یکم ستمبر:پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق وائٹ بال کپتان سلمان علی آغا، وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپننگ بلے باز امام الحق کے ساتھ ساتھ علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔پاکستانی ٹیم نے اتوار کے روز لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ 194 رنز سے گنوا دیا، جس کے اگلے ہی دن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورے کے درمیان ہی بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی کوچنگ اسٹاف کے ارکان کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں، جب پاکستان 3 میچوں کی سیریز میں 2-0 سے پیچھے ہے اور گزشتہ 6 ٹیسٹ میچوں میں سے 5 ہار چکا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق وائٹ بال کپتان سلمان علی آغا، وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپننگ بلے باز امام الحق کے ساتھ ساتھ علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے باہر کر دیا ہے۔
پی سی بی نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ ’’پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج اعلان کیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم سے 7 کھلاڑیوں کو باہر کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 7 نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
، جن میں ٹیسٹ سطح پر 5 ’ان کیپڈ‘ اور 2 کیپڈ کھلاڑی شامل ہیں۔‘‘ نئے شامل کیے گئے کھلاڑیوں میں پہلے ٹیسٹ کھیل چکے بلے باز صائم ایوب اور عبداللہ فضل کے ساتھ ساتھ بائیں ہاتھ سے اسپن گیند کرنے والے آل راؤنڈر عرفات منہاس شامل ہیں۔ برمنگھم کے ایجبسٹن میں 9 ستمبر سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل ’ان کیپڈ‘ کھلاڑی محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران اور رضاء اللہ بھی ٹیم سے وابستہ ہو جائیں گے۔
بورڈ نے کہا کہ ’’نئے کھلاڑیوں کے طور پر بلے باز صائم ایوب اور عبد اللہ فضل نے بالترتیب 8 اور 2 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ سے اسپن گیند کرنے والے آل راؤنڈر عرفات منہاس نے پاکستان کے لیے 3 ون ڈے اور 4 ٹی20 میچ کھیلے ہیں۔ باقی 4 کھلاڑیوں میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز محمد عمران جونیئر، وکٹ کیپر بلے باز اور قائداعظم ٹرافی 2025-26 کے ’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘ سعد بیگ، اور دائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کرنے والے آل راؤنڈر محمد عمران اور رضاء اللہ شامل ہیں۔