کراچی(پاکستان ):یکم ؍ستمبر:(پریس ریلیز) انجمن ترقی اردو پاکستان کے تعاون سے پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس کے مقالے، بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں عالم اسلام کے المیوں کی عکاسی، اور ان کے شعری مجموعوں، موج طرب، چھاؤں، اور، نہیں، کی تقریب پزیرائی ایک پروقار علمی و ادبی نشست میں منعقد کی، جس میں اہل قلم، شعراء، دانشوروں اور علمی و ادبی و ثقافتی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹرنزہت انیس کا مقالہ ایک بڑی اہمیت رکھتاہے،اس مقالےمیں انہوں نےجوکچھ لکھاہےوہ اہل علم اور اہل ادب کےلیےبہت بڑاسرمایہ ہے،نہ صرف وہ بہت اچھی شاعرہ بلکہ استادبھی ہیں،ان کےتین مجموعہ کلام شائع ہوچکےہیں،وہ ایک محقق اورادیب بھی ہیں۔انہوں محسن بھوپالی کی شخصیت پربھی ایک کتاب تحریرکی تھی،ہم سمجھتےہیں انجمن ترقی اردو اورمحبان بھوپال فورم مبارکبادکےمستحق ہیں جومختلف شخصیات کی تقریب تعارف وپذیرائی کرتے رہتے ہیں۔ تقریب سےصاحب صدرشاداب احسانی، پروفیسرسحرانصاری، ڈاکٹرتنظیم فردوس، معراج جامی،شگفتہ فرحت،ڈاکٹریاسمین سلطانہ اوردیگرکا خطاب سامعین کے لئے ذخیرہ ادب تھا۔
تقریب کے صدر محفل،جناب پرو فیسر ڈاکٹر شاداب احسانی مہمان خصوصی جناب پروفیسر سحر انصاری تھے۔اس تقریب کی نظامت کےفرائض معروف سینئر براڈکاسٹر، ٹی وی میزبان،جناب شاہد مسرورنے انجام دیئے۔تقریب کی میزبان محترمہ شگفتہ فرحت، نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس خوبصورت اجتماع میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتی ہوں، یہ تقریب ہمارے لیئے محض ایک ادبی نشست نہیں بلکہ علم، ادب، تحقیق اور تہذیبی ورثے سے اپنی وابستگی کے اظہار کا ایک خوبصورت موقع ہے، اور زبان نے برصغیر کی تہذیب،محبت، رواداری اور انسانی اقدار کو نسل در نسل منتقل کیا ہے،اور ہماری یہ زمہ داری ہے کہ ہم اس روشن روایت کو نئی نسل تک پہنچائیں،محبان بھوپال فورم کا عزم ہے کہ ادب، ثقافت اور علم کی خدمت کا یہ سفر اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ جاری رہے، آپ سب کی تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ، اور انجمن ترقی اردو پاکستان کے بھرپور تعاون کے لیئے بہت بہت شکر گزار ہوں، پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس جنہوں نے اپنی تخلیقات سے اُردو ادب کے دامن کو وسعت دی ان کو بہت دعائیں اللہ آپ کو سلامت رکھے اور مزید کامیابیوں سے نوازے آمین۔
ان کے بعد انجمن ترقی اردو پاکستان کی معتمد، محترمہ پروفیسر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ انجمن ترقی اردو پاکستان کے تعاون سے محبان بھوپال فورم کی اس تقریب میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت خوش آمدید کہتی ہوں، آپ سب کی تشریف آوری ہمارے لیئے باعثِ مسرت ہے اور اس ادبی کاوش کے لیئے باعثِ تقویت ہے۔
ان کے بعد مقررین نے پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس کے مقالے اور شعری مجموعوں پر اظہارِ خیال کیا، ان مقررین میں محترمہ وضاحت نسیم، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، جناب معراج جامی، ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی اور پروفیسر سحر انصاری قابلِ ذکر ہیں۔مقررین نے ڈاکٹر نزہت انیس کی علمی، تحقیقی اور تخلیقی کاوشوں کو اردو ادب کے لیئے ایک قابلِ قدر سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیق اور تخلیق دونوں میدانوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے، ان کا تحقیقی مقالہ محض ادبی موضوع کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ بیسویں صدی کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات کے پس منظر میں عالم اسلام کے مختلف المیوں کو اُردو شاعری کے آئینے میں دیکھنے کی ایک سنجیدہ اور با معنی کوشش ہے
مقررین نے پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس کے شعری مجموعوں، موج طرب، چھاؤں، اور، نہیں، کا تعارف اور ادبی جائزہ پیش کیا ۔مقررین نے کہا کہ ان مجموعوں میں زندگی کے مختلف رنگ، انسانی جذبات، معاشرتی مشاہدات، داخلی کیفیت اور عصری شعور ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں، ان کی شاعری میں جذبے کی صداقت کے ساتھ ساتھ فکر کی گہرائی بھی محسوس ہوتی ہے، ، موج طرب، میں زندگی کے روشن اور خوشگوار پہلوؤں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، چھاؤں، میں زندگی کی دھوپ میں انسانی جذبات اور احساسات کے لیئے ایک معنوی پناہ کا تصور ابھرتا ہے، جبکہ، نہیں، کا عنوان ہی ایک فکری مزاحمت، انکار اور سوال کی کیفیت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یوں یہ تینوں مجموعے شاعرہ کے تخلیقی سفر کے مختلف زاویوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔
ان کے بعد پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس نے بھرپور تالیوں کی گونج میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سب سے پہلے محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت، ناظم تقریب جناب اویس ادیب انصاری کا ان کے اعزاز میں شاندار اور یادگار تقریب منعقد کرنے پر بہت بہت شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ انجمن ترقی اردو پاکستان کے بھرپور تعاون پر بھی اپنی دلی مسرت کا اظہار کیا، انہوں نے تمام مہمانوں، صدر محفل جناب پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی، مہمان خصوصی جناب پروفیسر سحر انصاری اور دیگر مقررین اور اہل قلم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیئے یہ تقریب محض اعزاز نہیں بلکہ اپنی علمی و تخلیقی زمہ داریوں کو مزید سنجیدگی سے ادا کرنے کا حوصلہ بھی ہے انہوں نے مقالے اور شعری مجموعوں کو پزیرائی بخشنے پر اہل ادب کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اس موقع پر محبان بھوپال فورم کی جانب سے ڈاکٹر نزہت انیس، اور دیگر علمی و ادبی و ثقافتی و سماجی شخصیات کو ہار، گلدستے اور دیگر تحائف پیش کیئے ۔ صدر محفل جناب پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نےاظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ادب کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا آئینہ ہوتا ہے اور شاعر و ادیب اپنے عہد کے دکھ، خوشی، اضطراب اور خوابوں کو لفظوں میں محفوظ کرتے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس کا تحقیقی مقالہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں اُردو شاعری کو عالم اسلام کے تاریخی اور انسانی المیوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے، مزید فرمایا کہ پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس کے شعری مجموعے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ تخلیق کار اپنے گردوپیش سے آنکھیں بند نہیں کرتا بلکہ زندگی کو اس کی تمام تر پیچیدگیوں اور رنگا رنگی کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔