خواتین کے مساوی حقوق کا سوال آج پوری دنیا میں ایک اہم سماجی اور انسانی مسئلہ ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں میں تعلیم، روزگار، سیاست، سائنس، کھیل اور دیگر شعبوں میں خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بڑی تعداد میں خواتین کو امتیاز، تشدد، معاشی انحصار، تعلیم سے محرومی اور فیصلہ سازی میں محدود شرکت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے خواتین کے حقوق پر گفتگو محض ایک دن منانے یا چند رسمی تقاریر تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ کیسے تشکیل دیں جس میں ہر عورت کو عزت، تحفظ، تعلیم اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
عورت کے حقوق کی بحث میں مختلف مذاہب، تہذیبوں اور معاشرتی روایات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے آج سے صدیوں پہلے عورت کو انسانی وقار اور متعدد واضح قانونی و معاشی حقوق عطا کیے۔ مہر کو عورت کا حق قرار دیا گیا، اسے وراثت میں حصہ دیا گیا، نکاح میں اس کی رضامندی کو اہمیت دی گئی اور اس کے مال و جائیداد پر اس کی ملکیت کو تسلیم کیا گیا۔ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے احترام کی تعلیم اسلامی معاشرت کا بنیادی حصہ ہے۔
ٍاسی طرح حجاب اور پردے کے مسئلے پر بھی سنجیدہ اور متوازن گفتگو کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ مسلم خواتین کے حجاب کو بلا سوچے سمجھے پسماندگی یا جبر کی علامت قرار دیتے ہیں، حالاں کہ ایک بڑی تعداد میں خواتین اسے اپنے مذہبی عقیدے، شناخت اور ذاتی انتخاب کے طور پر اختیار کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ پردہ ،گھوگھنٹ، یا سر ڈھانپنے کی روایت صرف مسلم معاشرے تک محدود نہیں ہے۔ بھارت سمیت مختلف تہذیبی اور مذہبی روایات میں خواتین کا دوپٹے، ساڑی کے پلو یا گھونگھٹ سے سر ڈھانپنا بھی ایک معروف سماجی اور ثقافتی روایت رہی ہے اور آج بھی کئی معاشروں میں اس کا رواج ہے جو باحیا عورتیں اختیار کرنا پسند کرتی ہیں۔اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک عورت نے کون سا لباس پہن رکھا ہے، بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا اسے اپنے مذہبی، ثقافتی اور ذاتی انتخاب کے مطابق باوقار زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے؟ حقیقی آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ حجاب اختیار کرنے والی عورت کے انتخاب کا بھی احترام کیا جائے اور دوسری طرزِ زندگی اختیار کرنے والی عورت کے وقار اور آزادی کا بھی۔ کسی مخصوص لباس کو زبردستی مسلط کرنا ہو یا کسی عورت کو اس کے منتخب کردہ لباس سے محروم کرنا، دونوں صورتوں میں عورت کے اپنے اختیار اور وقار کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
آج جب خواتین کے مساوق حقوق کے دن کے موقع پر خواتین کو باختیار بنانے کی بات ہو رہی ہے تو اس میں سب سے پہلے تعلیم کی بات ہونی چاہئے ۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ ایک خاندان اور آنے والی نسلوں کی فکری و معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح خواتین کی بہتر صحت کی سہولیات، محفوظ ماحول، جائیداد اور وراثت کے حقوق اور فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔اسی تناظر میں بھارت میں یکساں سول کوڈ، یعنی UCC، پر جاری بحث کا مدعہ بھی ہے۔ خواتین کے ساتھ انصاف اور ان کے حقوق کا تحفظ یقیناً ہر قانون اور پالیسی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، لیکن بھارت جیسے کثیر مذہبی اور کثیر الثقافتی ملک میں یہ بھی ضروری ہے کہ قانون سازی کے دوران مختلف برادریوں، خواتین، سماجی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی آواز کو سنا جائے اور ان کے پرسنل لاکا پورا خیال رکھا جائے۔جہاں تک تعلق ہے کرمنل لا(Criminal Law) کا تعلق ہے تو اس کا ماننا تو سب پر ضروری ہے اور سب مانتے بھی ہے لیکن فی الحال جو بحث ہے وہ پرسنل لاکے تعلق سے ہے ،اگر شرعی قوانین پر بے جا قوانین بلا ضرورت تھوپے جائیں تو یہ اسلامی شریعت میں مداخلت کے مترادف ہے۔
مساوات کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہر شخص اور ہر برادری کی شناخت، روایت اور قانونی طریقۂ کار کو یکساں بنا دیا جائے۔ اصل مقصد انصاف ہونا چاہیے۔اگر کسی شخصی یا خاندانی قانون میں واقعی کوئی ناانصافی موجود ہے تو اس پر سنجیدہ گفتگو اور اصلاح ہونی چاہیے، لیکن اصلاح کا عمل مشاورت، اعتماد اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی طبقے کے مذہبی یا شخصی حقوق کے بارے میں بے اعتمادی یا خدشات پیدا کرکے۔ہمارے ملک میں تو ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جنہوںنے ہمارے ملک کو پوری دنیا کے سامنے رسوا کر کے رکھ دیا، جہاں ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والی بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو بجائے اس کے مجرمین کو سزا دینے کے انہیں رہا کر پھول مالا پہنائی گئی۔
خصوصاً مسلم خواتین کے حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شریعت کے ان اصولوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے جن میں مہر، وراثت، نکاح میں رضامندی، مالی حقوق اور بعض حالات میں خلع جیسے حقوق شامل ہیں۔ کسی بھی قانونی اصلاح کا مقصد خواتین کے حقوق کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے جائز حقوق کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا کرنا جو انہیں پہلے سے حاصل ہیں۔ اسی اصول کا اطلاق تمام مذہبی اور سماجی برادریوں پر ہونا چاہیے۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہر عورت، خواہ اس کا مذہب، طبقہ، زبان یا ثقافت کچھ بھی ہو، خود کو محفوظ، باوقار اور بااختیار محسوس کرے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خواتین کے حقوق کے سوال کو کسی ایک نظریے کی عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانیت، انصاف اور آئینی اقدار کے وسیع دائرے میں رکھیں۔ عورت کو مساوی مواقع بھی ملیں، اس کے جائز حقوق بھی محفوظ رہیں، اس کی مذہبی و ثقافتی شناخت کا احترام بھی ہو اور اسے اپنی زندگی کے فیصلوں میں حقیقی اختیار بھی حاصل ہو۔ یہی ایک ہم آہنگ، منصفانہ اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔









