بھوپال، 25 اگست :یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے حوالے سے جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کی جانب سے ریاست بھر میں علمی، آئینی اور عوامی بیداری کی منظم مہم مسلسل جاری ہے۔ جمعیۃ کے ذمہ داران کے مطابق مدھیہ پردیش کے تقریباً 45 اضلاع کے کلکٹریٹس میں اور سو سے زائد تحصیلوں میں UCC سے متعلق اعتراضات اور مطالبات پر مشتمل عرضداشتیں پیش کی جاچکی ہیں، جبکہ گزشتہ تین ماہ سے عوام کے درمیان پرسنل لا اور عائلی قوانین کی اہمیت کے سلسلے میں بیداری کا عمل بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
اسی سلسلے میں بھوپال کے مختلف علاقوں میں علماء، ائمہ، حفاظ، مؤذنین اور اہلِ دانش کے مشاورتی اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں۔ کروَدھ کی انشاء مسجد اور بی ایچ ای ایل میں جامع مسجد حضرت نظام الدین کے حلقے میں منعقدہ مشاورتی نشستوں کے بعد چھاؤنی حلقہ کی مسجد بیت المکرم میں حضرت مولانا مفتی محمد احمد خان، صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کی سرپرستی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں علماء و ائمہ کرام نے شرکت کی۔
صدرِ جمعیۃ مولانا محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں UCC کے ممکنہ اثرات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے علماء و ائمہ کرام سے اپیل کی کہ وہ عوام کے درمیان شرعی احکام، آئینی حقوق اور موجودہ قانونی صورتِ حال کے حوالے سے صحیح اور مستند معلومات عام کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اصلاحِ معاشرہ اور بیداریِ ملت دونوں میدانوں میں سنجیدگی، حکمت اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔
علماء و ائمہ کی بھرپور شرکت
اجلاس میں ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی، مولانا مجیب، مولانا شکیل احمد جامعی، مفتی فیاض، مولانا اسحاق جامعی، مفتی عبدالشکور جامعی اور محمد راشد انصاری سمیت بڑی تعداد میں علماء و ائمہ کرام نے شرکت کی اور بیداری مہم کو مزید مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
شرکاء نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ مسلمانوں کے لیے پرسنل لا محض کوئی سماجی روایت یا رسم نہیں، بلکہ ان کے مذہبی عقائد اور شریعت سے وابستہ عائلی نظام کا اہم حصہ ہے۔ نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر خاندانی معاملات کے متعلق شرعی احکام سے عوام کو واقف کرانا اور انہیں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
طلاق: آخری حل، پہلا قدم نہیں
طلاق کے موضوع پر مولانا محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام میں طلاق اگرچہ جائز ہے، لیکن اسے پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا گیا۔ ازدواجی زندگی کو بچانے اور رشتے کو برقرار رکھنے کی تمام ممکنہ کوششیں ناکام ہوجانے کے بعد ہی اسے آخری حل کے طور پر اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ غصہ، جذبات اور جلدبازی میں کیا گیا فیصلہ اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کردیتا ہے۔ اس لیے باہمی گفت و شنید، صلح و مصالحت اور خاندان کے سنجیدہ و سمجھدار افراد کی مداخلت کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش ہونی چاہیے، کیونکہ طلاق کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں اور پورے خاندان کی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
گھر گھر بیداری کا عزم
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کی یہ بیداری مہم آئندہ بھی ریاست کے مختلف اضلاع، شہروں، محلہ جات اور مساجد تک مسلسل جاری رکھی جائے گی، تاکہ گھر گھر صحیح معلومات، دینی شعور، سماجی اصلاح اور آئینی آگاہی کا پیغام پہنچایا جاسکے اور عوام موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ اور پُرامن انداز میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔









