بھوپال:19؍اگست:(پریس ریلیز) گزشتہ دنوں بروز اتوار بمقام کپتان شادی ہال گنوری بھوپال میں کل ہند تعلیمی بورڈ جمعیت علمائے ہند اس وقت پورے ملک میں قیام مکاتب تنظیم مکاتب کی فکر کر رہا ہے اس کا مقصد مسلمانوں کے بچے بچے کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا نیز جدید تعلیمی نظام (N.E.P) کے ذریعے کم سن بچے بچیوں میں داخل کیے جا رہے کفر و شرک کے جراثیم کو پنپنے و پھیلنے سے روکنا ہے چنانچہ جہاں ایک طرف یہ بورڈ ملک کے دیگر صوبوں میں انتہائی متحرک و فعالیت کے ساتھ کام کر رہا ہے تو وہیں ہمارے صوبے مدھیہ پردیش میں بھی محض اللہ کے فضل و کرم اور حضرات اکابر علمائے دیوبند کی بصیرت افروز نگاہوں و تو جہات کی برکت سے اس تحریک میں دوبارہ روح پھونکی گئی ۔ اسی سلسلے کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے بورڈ کی جانب سے مکاتب قرآنیہ کے نظام تعلیم نصاب تعلیم طریقہ تعلیم و نگرانی کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ماہر تجربے کارٹرینر حضرات کے ذریعے معلمين ومعلمات کی تربیت وٹریننگ کی جاتی ہے الحمد للہ بروز اتوار ۲ ربیع الاول ۱۴۴۸ ہجری مطابق 16 اگست 2026 معاون جماعت دینی تعلیمی بورڈ شہر بھوپال کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمد ابوالکلام صاحب قاسمی صوبائی صدر دینی تعلیمی بورڈ (جمعیتہ علماء ہند ) کی زیر صدارت وسرپرستی یک روزہ تدریبی و تربیتی ورک شاپ (برائے معلمات مکاتب قرآنیہ شہر بھوپال ) منعقد کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز صبح 9.30بجے معاون جماعت دینی تعلیمی بورڈ شہر بھوپال (A) کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا مفتی محمد علی طاہر صاحب مظاہری کی تلاوت سے ہوا جبکہ نعتیہ اشعار- *حضرت مولانا فیروز آدم صاحب قاسمی (مرکزی معاون) نے گنگنائے بعد ازاں مولانا فائز الدین فاروقی طلحوی صدر دینی تعلیمی بورڈ شہر بھوپال کا تعارفی خطاب ہوا جس میں دینی تعلیمی بورڈ کا مقصد تدریبی و تربیتی ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی بعدہ معاون جماعت کے رکن رکین حضرت مولانا ابراہیم علی خان صاحب مظاہری کا ترغیبی خطاب ہوا جس میں مولانا محترم نے انتہائی سہل و عام فہم انداز میں نسل نو کو سنوارنے میں خواتین بالخصوص شریعت مطہرہ کی فہم رکھنے والی دینی ماؤں اور بہنوں کی اہمیت پر جامع خطاب فرمایا۔ حسب ترتیب پروگرام کا نظام *جناب مولانا فیروز آدم صاحب قاسمی (مرکزی معاون کل ہند دینی تعلیمی بورڈ) نے سنبھالا جس میں مولانا محترم نے اپنے منفرد انداز تربیت و مؤثر انداز گفتگو سے نئے مکاتب کو وجود میں لانے اسی طرح پہلے سے قائم شدہ قدیم مکاتب کے نظام تعلیم ، نصاب تعلیم ، طریقہ تعلیم کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے کی رہنمائی فرمائی مولانا محترم نے جہاں ایک طرف کم سن بچے بچیوں کی نفسیات کو سمجھ کر پڑھانے کا موثر طریقہ تعلیم سمجھایا تو وہیں نسل نو کے فطری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ان کے معیار کے مطابق نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے پر زور دیا اس تربیتی کیمپ میں الحمد للہ تقریباً 110 معلمات فاضلات نے شرکت کر کے استفادہ کیا۔ اور تقریباً 88 معلمات نے اپنے تأثرات و عزائم کا تحریری طور پر اظہار کیا -اس تربیتی ورک شاپ میں مزید جان پیدا کرنے و اسکی غرض و غایت کو سامنے رکھتے ہو معاون جماعت دینی تعلیمی بورڈ (شہر بھوپال) نے یہ بھی طے کیا کہ شرکت کرنے والی تمام معلمات و فاضلات کو سند شرکت و اجازت تعلیم ایک مختصر جائزے (Test) کے بعد دی جاۓ تاکہ نظام تعلیم و تربیت اور بلند و معیاری ہو سکے-
پروگرام کے اخیر میں دینی تعلیمی بورڈ کےصوبائی صدر حضرت مولانا مفتی محمد ابوالکلام صاحب قاسمی زید مجدہ کا کلیدی خطاب ہوا جس میں حضرت مفتی صاحب نے انتہائی جامع و مختصر انداز میں تربیتی ورکشاپ میں حاضر دینی ماؤں بہنوں کو نصیحت فرمائی اور حضرت مفتی صاحب ہی کی دعا پر شام 5 بجے پروگرام اختتام پذیر ہوا۔









