بھوپال18اگست:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریلوے اور گوالیار کا گہرا تعلق ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستانی ریلوے نے بے مثال ترقی کی ہے۔ ملک کو وندے بھارت اور امرت بھارت ٹرینوں کی سوغات ملی ہے۔ ہندوستان میں اب ہائیڈروجن سے بھی ریل گاڑی چلنے لگی ہے۔ مستقبل میں بُلٹ ٹرین چلانے کا بھی منصوبہ ہے۔ مدھیہ پردیش کو ہر روز مرکز کی جانب سے ریلوے اور دیگر منصوبوں کی سوغات مل رہی ہے۔ تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے کی لاگت والی اندور۔منماڑ ریلوے لائن کا منصوبہ ریاست کے لیے ایک بڑی سوغات ہے۔ یہ روٹ گنا اور مالوہ کے راستے ممبئی تک ریلوے کا نیا راستہ بنے گا۔ مالوہ اور چمبل خطے کے صنعتی کوریڈور کو بھی اس لائن سے فائدہ ہوگا۔ ڈیفنس کوریڈور اور ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کو بھی نئی ریلوے لائن سے فائدہ پہنچے گا۔ مدھیہ پردیش میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے ریلوے منصوبوں پر کام جاری ہے۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو اور مرکزی وزراء نے منگل کے روز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیلارس۔سبل گڑھ۔بیرپور ریلوے سیکشن کا افتتاح اور گوالیار۔کیلارس میمو ٹرین کی بیرپور اسٹیشن تک توسیع کا جھنڈی دکھا کر آغاز کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پروگرام سے ورچوئلی خطاب کیا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسی بھی صنعتی علاقے کی ترقی کے لیے کنیکٹیویٹی بہتر ہونی چاہیے۔ گوالیار خطہ بیٹری اسٹوریج منصوبے، فٹ ویئر کلسٹر اور ہائیڈروجن مینوفیکچرنگ یونٹ کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرے گا۔ ملک میں آمدورفت کے لیے اب تک سب سے آسان اور سب سے سستی ٹرانسپورٹ ہندوستانی ریلوے ہی ہے۔ گوالیار خطے میں آج ریلوے سیکشن کی توسیع سے ریاست کے عوام کو ایک بڑی سوغات ملی ہے۔ ہندوستان میں سال 2014 تک ریلوے کی برقی کاری صرف 30 فیصد تھی۔ وزیرِ اعظم جناب مودی کی مدتِ کار کی ایک دہائی میں ہی ریلوے کی 70 فیصد برقی کاری ہو جانا ایک معجزاتی کامیابی ہے۔ ملک میں کسی نے ایک ساتھ تین اور چار ریلوے لائنوں کا تصور نہیں کیا تھا، جسے آج ہم مدھیہ پردیش میں جاری سات منصوبوں میں مکمل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ سنہستھ: 2028 کی تیاری میں مرکزی حکومت اور ریلوے کی جانب سے مدھیہ پردیش حکومت کو مکمل تعاون حاصل ہو رہا ہے۔

مرکزی وزیرِ ریلوے جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ سب کے ساتھ اور سب کے اعتماد سے ہی آج 56 کلومیٹر طویل کیلارس۔سبل گڑھ۔ویرپور ریلوے سیکشن کا افتتاح ہوا ہے۔ اس ریلوے لائن سے گوالیار۔چمبل خطے کے سیکڑوں گاؤں کے رہنے والوں کو فائدہ ہوگا۔ مستقبل میں اس لائن کو شیؤپور کلاں سے کوٹا تک توسیع دی جائے گی۔ اس سے تعلیمی مرکز کے طور پر ترقی کر چکے کوٹا تک آنے جانے کی سہولت میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی جے پور تک صنعتی کوریڈور کو بھی رفتار ملے گی۔ یہ منصوبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اسے سال 2011 میں منظوری مل چکی تھی، سال 2016 میں کام شروع ہونے کے بعد اب تک 117 کلومیٹر طویل ریلوے لائن پر ٹرینیں چل رہی ہیں۔ فی الحال ویرپور سے سرولی روڈ تک 37 کلومیٹر ریلوے سیکشن اور سرولی روڈ سے شیؤپور کلاں تک 33 کلومیٹر ریلوے سیکشن کا 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ چند ماہ میں گوالیار سے شیؤپور کلاں تک ریل گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہو جائے گی۔ اس روٹ پر گوالیار سے برلا نگر، بامورگاؤں، امبیکیشور، سُماولی، بھٹپورہ، کیلارس، پیپل والی چوکی، سبل گڑھ اور ویرپور اسٹیشن شامل ہیں۔

وزیرِ ریلوے جناب ویشنو نے کہا کہ پہلے مدھیہ پردیش میں ریلوے کی ترقی کا بجٹ محض 632 کروڑ روپے ہوتا تھا۔ اب وزیرِ اعظم جناب مودی نے مدھیہ پردیش کو 15 ہزار 188 کروڑ روپے کا بجٹ دیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے لیے ریلوے کا بجٹ 24 گنا تک بڑھایا گیا ہے۔ آج مدھیہ پردیش میں ریلوے کے شعبے میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 55 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ ریاست میں 80 اسٹیشنوں کی ازسرِ نو تعمیر ہو رہی ہے۔ پانچ وندے بھارت ٹرینوں کی سوغات بھی دی گئی ہے۔ ریلوے کی 7 امرت بھارت ایکسپریس ٹرینیں بھی مدھیہ پردیش کو رفتار دے رہی ہیں۔ اندور۔منماڑ ریلوے لائن ایک انقلابی قدم ہے۔ بھوساول سے کھنڈوا تک تیسری اور چوتھی لائن، پریاگ راج سے مانک پور کی تیسری لائن، رتلام سے ناگدا کی تیسری اور چوتھی لائن، اٹارسی سے ناگپور کی چوتھی لائن، اٹارسی سے بھوپال اور بینا کی چوتھی لائن، بڑودہ سے رتلام کی تیسری اور چوتھی لائن، گونڈیا سے جبل پور کے لیے ڈبلنگ، اور ناگدا سے متھرا کی تیسری اور چوتھی لائن شامل ہیں۔