بھوپال:18؍اگست:گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے کہا کہ نوجوان ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد ہیں۔ انہیں صحت مند، تعلیم یافتہ اور بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو عصری حالات کے مطابق چوکس اور بیدار بنائیں۔ انہیں سماج اور ملک کے مفاد کے تئیں عہد بستہ اور وقف بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے نعمت ہے۔ یونیورسٹی کا مقصد درج فہرست ذات اور قبائلی طبقے کی بہتری کے لیے مسلسل غور و فکر اور کوشش کرنا ہے۔ ان کی تعلیمی اور معاشی فلاح کے لیے خصوصی تحقیق اور اختراعات کی سمت رہنمائی کریں۔ مرکز اور ریاستی حکومت کے فلاحی پروگراموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کریں۔گورنر مسٹر پٹیل منگل کو ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر سماجی علوم یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ لوک بھون کے ساندیپنی آڈیٹوریم میں منعقدہ میٹنگ میں گورنر کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر نوینیت موہن کوٹھاری بھی موجود تھے۔
طلبہ کو سماجی انصاف اور ہم آہنگی کے عملی اقدار دیں
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ایسا بندوبست بنائے کہ طلبہ ڈاکٹر امبیڈکر کی شخصیت، ان کے کارناموں اور قوم کی تعمیر میں ان کی عظیم خدمات سے مسلسل واقف ہوتے رہیں۔ طلبہ کو بابا صاحب کے سماجی انصاف اور ہم آہنگی کے عملی اقدار دیں۔ انہیں ایسی تعلیم دی جائے کہ وہ کمزور اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے تئیں خصوصی طور پر حساس اور پْرعزم بنیں۔ سماجی اصلاح کے خصوصی جذبے کے ساتھ قوم کی تعمیر میں اپنا تعاون دیں۔ گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ یونیورسٹی ریاست کے انتہائی پسماندہ قبائلی باگا، بھاریہ اور سہریا برادریوں کے لیے تعلیمی اور بااختیار بنانے کے پروگرام بنائے۔
منشیات سے پاک مہم میں فعال شرکت کریں
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے ’من کی بات‘ پروگرام سے ملنے والی رہنمائی اور تحریک سے کمزور طبقے کی ترقی اور تعلیمی اختراعات میں شمولیت کے لیے خصوصی کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی اپیل پر ’’نشیلی اشیاء سے پاک ہندوستان مہم‘‘ چلائی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی نشہ سے پاک مہم میں فعال طور پر شرکت کرے۔
ادارے کو عمدہ اور معیاری تعلیم کا مثالی مرکز بنائیں
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر سماجی علوم یونیورسٹی بابا صاحب کے سماجی انصاف اور ہم آہنگی کے فلسفے پر مبنی ملک کا ایک ممتاز ادارہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے دستیاب وسائل کا بہترین استعمال کرے۔ حکومت کی جانب سے درج فہرست ذات و قبائلی طبقے کی تعلیمی فلاح و بہبود کے لیے مختص بجٹ کو مقررہ مدت میں خرچ کریں۔ بجٹ کا دانش مندانہ اور ضابطوں کے مطابق استعمال کریں۔ عالمی مسابقت کے مطابق خصوصی نصاب اور پروگرام بھی چلائے جائیں۔ ادارے کو عمدہ اور معیاری تعلیم کا مثالی مرکز بنائیں۔
ادارے کی بہتری میں سابق طلبہ کا تعاون حاصل کریں
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ادارے کی مالی حالت کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کرے۔ حکومت کے علاوہ سماجی تعاون، بین الاقوامی اور قومی تنظیموں کے ساتھ تال میل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے سابق طلبہ کو بھی ادارے کی بہتری میں تعاون دینے کے لیے ترغیب دیں۔ گورنر مسٹر پٹیل نے یونیورسٹی کی مالی تجاویز کے لیے محکمہ خزانہ کو ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایات دیں۔گورنر مسٹر پٹیل کا میٹنگ کے آغاز میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رام داس اترم نے گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا۔ قائم مقام رجسٹرار نے یونیورسٹی کے انتظام، تعمیراتی کام، اختراعات اور مالی استحکام کی تجاویز کے سلسلے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔اعلیٰ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نے تعلیم کے معیار، نئی آسامیوں کے قیام اور مالی جواز کے سلسلے میں ضروری تجاویز دیں۔ مالیات کے سکریٹری مسٹر لوکیش جاٹو نے آمدنی و اخراجات اور نئی تجاویز پر مالیاتی ضوابط کی معلومات فراہم کیں۔میٹنگ میں اعلیٰ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری مسٹر انوپم راجن، قبائلی امور کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر گلشن بامرا، گورنر کے ڈپٹی سکریٹری مسٹر سنیل دوبے سمیت یونیورسٹی انتظامیہ کے سینئر افسران اور گورننگ باڈی کے اراکین موجود تھے۔









