مظفرپور، 17 اگست 2026 (پریس ریلیز):ضلع مظفرپور کے قدیم دینی و اقامتی ادارہ مدرسہ حسینیہ صدیقیہ، رحیم پور رکسا میں مشہور مصنف ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی میں ملک کے 80ویں جشنِ آزادی کے موقع پر ایک نہایت پُروقار، شاندار اور ملی و قومی جذبے سے سرشار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کی صدارت مدرسہ کے سیکریٹری جناب جسیم احمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی اور انہی کے دستِ مبارک سے قومی پرچم کشائی کی گئی۔ پروگرام کی سرپرستی مدرسہ کے مہتمم مولانا سلطان صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض مدرسہ کے استاذ مفتی محمد توصیف قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔پرچم کشائی سے قبل طلبہ نے نہایت نظم و ضبط، شائستگی اور جوش و جذبے کے ساتھ متنوع پروگرام پیش کیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد محمد فیضان نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
اس کے بعد طلبہ کی ایک جماعت نے تحریکِ آزادیِ ہند میں علماءِ کرام اور مسلمانانِ ہند کی بے مثال قربانیوں، مدارسِ اسلامیہ کے روشن اور تاریخی کردار، نیز علماءِ دیوبند کی جدوجہدِ آزادی پر پُرجوش اور فکرانگیز تقاریر پیش کیں۔ شہادت حسین (پورنیہ)، محمد شارق (مظفرپور)، محمد طلحہ (ویشالی) اور محمد تابش (مظفرپور) کی تقاریر خصوصی طور پر قابلِ توجہ رہیں، جن میں حب الوطنی، ملی شعور اور تاریخِ آزادی سے وابستگی کا مؤثر اظہار ہوا۔
طلبہ کے پروگرام کے اختتام پر مدرسہ کے استاذ مفتی محمد توصیف قاسمی نے ’’تاریخِ آزادیِ ہند‘‘ کے عنوان سے طلبہ، اساتذہ اور اہلِ علاقہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ قربانیوں، عزیمتوں اور جدوجہد سے عبارت ہے۔ 1757ء کی جنگِ پلاسی سے لے کر حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی معرکہ آرائی، 1831ء کی جنگِ بالاکوٹ، 1857ء کی ملک گیر جدوجہدِ آزادی اور تحریکِ ریشمی رومال تک، مختلف مراحل میں مسلمانانِ ہند اور بالخصوص علماءِ کرام نے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی آزادی صرف سیاسی واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پس منظر میں نسلوں کی قربانیاں، مجاہدین کی استقامت اور اہلِ حق کی بے لوث جدوجہد کارفرما ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو تاریخِ آزادی کے ان روشن ابواب سے باخبر کیا جائے اور انہیں صحیح تاریخی شعور سے آراستہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج آزادی کی حفاظت، ملک کی تعمیر، امن و امان کے قیام، قومی یکجہتی اور باہمی اخوت کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کو محض یاد ہی نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے اخلاص، ایثار، اتحاد اور حب الوطنی سے سبق بھی حاصل کرنا چاہیے۔
تقریب میں مدرسہ کے جملہ اساتذہ و طلبہ کے علاوہ ذمہ دارانِ مدرسہ اور اہلِ علاقہ کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔ اس موقع پر قاری ماجد صاحب، حافظ محمد طفیل صاحب، ماسٹر آصف علی صاحب، جناب عبدالجبار صاحب (نائب سیکریٹری)، جناب محمد فیضان، ڈاکٹر وزیر، ماسٹر عرفان صاحب، بھائی مظہر سمیت متعدد معززینِ علاقہ کی موجودگی نے تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔
تقریب کے اختتام پر ملکِ عزیز کی سلامتی و استحکام، ترقی و خوش حالی، قومی یکجہتی، باہمی اخوت اور امن و امان کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ یوں یہ بابرکت تقریب نئی نسل کے دلوں میں حب الوطنی، ملی شعور اور تاریخِ آزادی سے وابستگی کے جذبات کو مزید مہمیز دے کر اختتام پذیر ہوئی۔