بھوپال:17؍اگست:ڈیجیٹل بازار نے خریداری اور ادائیگی کو جتنا آسان بنایا ہے، اتنا ہی صارفین کے سامنے دھوکہ ھڑی، ڈیٹا کی رازداری اور شکایات کے فوری حل جیسے نئے چیلنج بھی کھڑے کئے ہیں۔ ایسے دور میں صارفین کے حقوق کی معلومات اور محفوظ ڈیجیٹل طرزِ عمل صرف بیداری کا موضوع نہیں، بلکہ صارفین کو بااختیار بنانے کی لازمی شرط بن گیا ہے۔ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں مدھیہ پردیش ریاستی صارف تنازعات ازالہ کمیشن نے پیر کو بھوپال میں ڈیجیٹل صارفین کے حقوق، آن لائن دھوکہ دھڑی اور مؤثر شکایت کے ازالے پر ماہرین کے ساتھ وسیع پیمانے پر غور وخوض کیا۔کشابھاؤ ٹھاکرے بین الاقوامی آڈیٹوریم میں منعقدہ ورکشاپ کا موضوع “Empowering the Digital Consumer: Rights, Redressal and Safe Transactions” رہا۔ مدھیہ پردیش ریاستی نیتی آیوگ کی شرکت سے منعقد اس ورکشاپ میں عدالتی افسران، انتظامی افسران، وکلاء اور سائبر ماہرین نے ڈیجیٹل بازار میں صارفین کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں اور ان کے حل پر اپنے خیالات شیئر کیے۔
ورکشاپ کا افتتاح مدھیہ پردیش ریاستی صارف کمیشن کی چیئر پرسن جسٹس شریمتی سونیتا یادو کی موجودگی میں ہوا۔ اس موقع پر کمیشن کی رکن ڈاکٹر مونیکا ملک، رجسٹرار مسٹر شریمن شکلا، محکمہ خوراک، سول سپلائی نیز صارفین تحفظ کے کمشنر مسٹر دنیش جین اور کنزیومر بار کے چیئرمین مسٹرموہن چوکسے موجود رہے۔
شریمتیسونیتا یادو نے کہا کہ موبائل فون اور ای کامرس پلیٹ فارم اب لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ڈیجیٹل ذرائع نے بازار تک رسائی اور لین دین کو آسان بنایا ہے، لیکن دھوکہ دھڑی اور فریب کے طریقے بھی اسی رفتار سے بدل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صارف کو شکایت درج کرانے کے لیے پیچیدہ طریقہ کار سے نہ گزرنا پڑے، اس کے لیے شکایت انسداد نظام کو آسان اور سہل بنانا ضروری ہے۔ مضبوط قوانین کے ساتھ ایسے بیدارشہری بھی ضروری ہیں جو اپنے حقوق کو سمجھیں اور ڈیجیٹل لین دین میں احتیاط برتیں۔ انہوں نے قانون کے طلباء اور نوجوانوں کو بھی صارفین کی بیداری کے مکالمے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ اور منصفانہ ڈیجیٹل ماحول تیار کرنے میں قانون کے ساتھ شہری بیداری کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے۔کمیشن کے رجسٹرار مسٹر شریمن شکلا نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور تجارت کی تیزی سے بدلتی ہوئی شکل نے صارفین کے لیے سہولتیں بڑھائی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ای کامرس دھوکہ دھڑی، ذاتی معلومات کی چوری اور غلط استعمال، آن لائن مالی دھوکہ دھڑی اور ڈیجیٹل لین دین سے متعلق شکایات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ذرائع سے شکایات کی نگرانی، ثالثی اور حل کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔محکمہ خوراک، سول سپلائی اورصارفین تحفظ کے کمشنر مسٹر دنیش جین نے کہا کہ محکمہ عوامی تقسیمی نظام اور کم از کم معاون قیمت پر مبنی حصولیابی کے ذریعہ بڑی تعداد میں صارفین اور کسانوں سے براہ راست جڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی تقسیمی نظام میں تقریباً 5.17 کروڑ صارفین منسلک ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعہ شفافیت، جواب دہی، وقت پر ادائیگی اور شکایت کے ازالے میں آنے والی تبدیلیوں کی نشان دہی کی۔کمیشن کی رکن ڈاکٹر مونیکا ملک نے کہا کہ ڈیجیٹل بازار کی تیزی سے توسیع کے ساتھ صارف تحفظ کے نظام کو بھی مسلسل ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تاخیر سے ترسیل، فرضی آن لائن ریویوز، گمراہ کن اداروں، صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال اور ذاتی معلومات کی رازداری جیسے مسائل کو اہم چیلنج بتایا۔
ورکشاپ کے مختلف سیشنوں میں صارف تحفظ ایکٹ، 2019، ای کامرس میں صارفین کے حقوق، غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار، مصنوعات کی ذمہ داری، ڈیجیٹل ادائیگی میں دھوکہ دھڑی، سائبر جرم اور آن لائن شکایت کے ازالے جیسے موضوعات پر ماہرین نے گفتگو کی۔
سائبر اسٹیٹ سیل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر پرنے ناگونشی نے سائبر جرائم کی موجودہ صورتحال اور بدلتے ہوئے طریقوں پر خصوصی خطاب کیا۔وکیل مسٹر یشوردھن سنگھ رگھوونشی نے “10 Things Every Consumer Should Know” کے موضوع پر پرزنٹیشن دیتے ہوئے صارفین کے حقوق سے متعلق اہم پہلوؤں کو آسان طریقے سے سمجھایا۔
ورکشاپ میں ماہرین کے تبادلہ خیلا کا خلاصہ یہی رہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کا مقصد صرف لین دین کو آسان بنانا نہیں، بلکہ صارف کے لیے بازار کو مزید شفاف، جواب دہ اور قابلِ اعتماد بنانا بھی ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ کی دستیابی، شکایت کی صورتحال کی شفاف معلومات، وقت مقررہ کے اندر حل اور محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے ساتھ نیٹ ورک یا تصدیق سے متعلق مسئلہ آنے پر متبادل انتظام بھی ضروری ہے۔ مدھیہ پردیش ریاستی نیتی آیوگ کی انتظامی افسر شریمتی پورنیما شرما نے اظہارتشکر کیا۔