بھوپال:17؍اگست:وزیر اعظم دھن دھانیہ زرعی اسکیم کے نفاذ میں ڈنڈوری ضلع نے ملک کے منتخب 100 اضلاع میں جولائی مہینے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی ضلع میں مختلف محکموں کے ذریعے چلائی جانے والی 36 اسکیموں کے بہتر نفاذ اور مؤثر تال میل سے حاصل ہوئی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، آبپاشی اور زرعی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی تکنیکوں کو فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ڈنڈوری ضلع کی معیشت بنیادی طور پر زراعت، جنگلاتی پیداوار اور دیہی روزگار پر منحصر ہے۔ ضلع میں قدرتی اور نامیاتی کھیتی کے ساتھ شری اَنّ (ملیٹس) کی پیداوار کو خصوصی فروغ دیا جا رہا ہے۔ ضلع میں 34 ہزار 700 ہیکٹر رقبے میں کوڈو کٹکی کی کاشت کی جا رہی ہے، جس سے 52 ہزار 282 کسان خاندان اور 14 کسان پیداواری تنظیمیں براہِ راست وابستہ ہیں۔ ضلع کی روایتی کودو کٹکی مصنوعات کو جی آئی ٹیگ ملنے سے انہیں قومی سطح پر شناخت حاصل ہوئی ہے۔رانی درگاوتی شری اَنّ فروغ اسکیم کے تحت 5 ہزار 36 کسانوں سے 3 ہزار کوئنٹل کودو کٹکی کی خریداری مکمل کی جا چکی ہے۔ رواں سال 10 ہزار کوئنٹل خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ قدرتی اور نامیاتی کھیتی کے فروغ کے لیے ضلع میں 33 حیاتیاتی وسائل مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے 67 ہزار 155 لیٹر ورمی واش، جیومرت اور اگنی استر تیار کرکے 390 ہیکٹر زرعی رقبے میں استعمال کیا گیا ہے۔ ضلع کے 15 ہزار 928 کسانوں نے قدرتی کھیتی اپنائی ہے، جبکہ 8 ہزار 400 ہیکٹر زرعی رقبے کی نامیاتی تصدیق مکمل کی جا چکی ہے۔
زرعی میکانائزیشن کے شعبے میں ہیپی سیڈر اور سپر سیڈر جیسے جدید زرعی آلات کے ذریعے 38 ہزار 518 ہیکٹر رقبے میں میکانائزیشن کی گئی ہے۔ کسانوں کو 305 جدید زرعی آلات تقسیم کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 میں جولائی کے مہینے تک قدرتی اور نامیاتی زرعی ترقیاتی اسکیم کے تحت 6 ہزار 364 کسانوں کا رجسٹریشن کیا گیا۔ ایف پی او کو مضبوط بنانے کے تحت 4 ہزار 615 نئے کسانوں کی لنکنگ، 5 ہزار 100 ہیکٹر رقبے میں بارش کے پانی کے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور 678 ہیکٹر میں مائیکرو آبپاشی کے زرعی آلات کے استعمال کو یقینی بنایا گیا ہے۔ضلع میں دالوں اور تلہن کے رقبے میں توسیع، کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت، فصل بیمہ، قدرتی کھیتی اور زرعی سائنس مرکز و این آر ایل ایم کے ذریعے کسانوں کو تربیت دینے جیسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ زرعی پیداوار بڑھانے اور کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے محکموں کے درمیان مربوط طور پر کام کیا جا رہا ہے۔
مویشی پروری اور ڈیری ترقی کے شعبے میں بھی ضلع میں مؤثر کام کیا جا رہا ہے۔ کشیر دھارا گرام اسکیم کے پہلے مرحلے میں منتخب 28 گاؤں میں 72 کیمپ منعقد کرکے 100 فیصد ٹیکہ کاری مکمل کی گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ضابطے کے مطابق 144 نئے گاؤں کا انتخاب کیا جا چکا ہے۔ چارہ بیج فراہمی اسکیم کے تحت 1 ہزار 469 مویشی پالنے والوں کو معیاری جوار کے چارے کا بیج تقسیم کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ ڈیری پلس اسکیم میں 26 مویشی پالنے والوں کو مرہ نسل کی دودھ دینے والی بھینسیں تقسیم کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کام دھینو اسکیم کے ذریعے ڈیری کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مویشیوں کی صحت اور علاج کے شعبے میں سال 2025-26 سے اب تک ضلع میں 3 لاکھ 94 ہزار 667 مویشیوں کا مؤثر علاج کیا گیا ہے۔ قومی مویشی بیماری کنٹرول پروگرام کے تحت 4 لاکھ 7 ہزار 800 ٹیکے لگا کر 100 فیصد ہدف مکمل کیا گیا۔ ایف ایم ڈی ٹیکہ کاری میں ڈنڈوری ضلع نے جبل پور ڈویڑن میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
بہتر حکمرانی اور محکموں کے تال میل سے حاصل ہوئی کامیابی
وزیر اعظم دھن دھانیہ زرعی اسکیم کے تحت شکایات کا مقررہ مدت میں ازالہ، بہتر حکمرانی کے زمرے، کسانوں کی تربیت، فصل کٹائی کے تجربات کی 100 فیصد تکمیل، بنیادی زرعی ساکھ کوآپریٹو اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن، پی ایم کسان کے ذریعے قرض کی تقسیم، دیہی ہنر مندی اسکیم، آدھار سیڈنگ، محصولات سے متعلق معاملات کا ازالہ، باغبانی اور مویشی پالن کی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں ضلع نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ڈنڈوری کی کلکٹر مسز انجْو پون بھدوریا نے وزیر اعظم دھن دھانی زرعی اسکیم کے نفاذ میں ملک کے 100 منتخب اضلاع میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر متعلقہ محکموں کے افسران، ملازمین اور ضلع کے کسانوں کو مبارکباد دی ہے۔ ساتھ ہی آئندہ مدت میں بھی اسی طرح مؤثر محکمہ جاتی تال میل، عوامی شراکت داری اور مسلسل نگرانی کے ساتھ کام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کسانوں اور دیہی خاندانوں کو حکومت کی اسکیموں کا فائدہ پہنچانے کی اپیل کی ہے۔









