لکھنو13اگست: لکھنؤ میں پالتو کتے اور بلی پالنے والوں کے لیے اب قوانین مزید سخت ہو گئے ہیں۔ جولائی 2026 میں میونسپل کارپوریشن کے پیٹ اینیمل لائسنس، کنٹرول اینڈ ریگولیشن بائی لاز-2025 کے گزٹ کے شائع ہونے کے بعد نیا نظام لاگو کیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ 2003 کے بعد پہلی بار پالتو جانوروں سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اب تک لائسنس کا نظام بنیادی طورپر کتوں تک محدود تھا، لیکن پہلی بار بلیوں کو بھی لائسنس کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ہندوستانی نسل کے کتے کے لیے سالانہ لائسنس فیس 200 روپے طے کی گئی ہے۔ غیر ملکی نسل کے کتے کے لیے یہ فیس 1000 روپے ہوگی۔ دوسری جانب ملکی یا غیر ملکی کسی بھی نسل کی بلی پالنے کے لیے 500 روپے سالانہ لائسنس فیس دینی ہوگی۔ نگر نگم نے لائسنس نہ بنوانے والوں کے لیے بھی سخت قانون وضع کیا ہے۔ بغیر لائسنس کے پالتو جانور رکھنے پر ملکی یا غیر ملکی نسل کے کتے کے معاملے میں 5000 روپے، جبکہ بلی کے معاملے میں 1000 روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ لائسنس کی اطلاع ملنے کے بعد بھی اس کی تجدید نہ کرانے پر کارروائی کے ساتھ ساتھ اضافی جرمانے کا بھی قانون ہے۔ قوانین کے تحت 50 روپے روزانہ اضافی جرمانہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ نئے ذیلی قوانین میں پالتو جانوروں کے حوالے سے ذمہ داری بھی طے کی گئی ہے۔ کتے اور بلی کو سڑک، پارک یا دیگر عوامی مقامات پر کھلا چھوڑنا ممنوع رہے گا۔ جانوروں کے مالکان کو اپنے پالتو جانوروں کی حفاظت، کنٹرول اور صفائی ستھرائی کی پوری ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ قوانین کی خلاف ورزی ہونے پر لائسنس منسوخ کرنے سمیت دیگر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ نگر نگم نے مکان کے رقبے کے حساب سے پالتو کتوں کی تعداد بھی طے کر دی ہے۔ 200 مربع میٹر تک کے مکان میں زیادہ سے زیادہ 2 کتے رکھے جا سکیں گے اور 300 مربع میٹر تک کے مکان میں زیادہ سے زیادہ 4 کتے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے زیادہ تعداد میں کتے رکھنے پر انہیں شیلٹر ہوم میں رکھنے کا انتظام کرنا ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ نئے قوانین کا مقصد گھروں میں بڑی تعداد میں کتے پالنے پر کنٹرول کرنا بھی ہے۔ 4 سے زیادہ کتے رکھنے کی صورت میں شیلٹر ہوم سے متعلق قوانین نافذ ہوں گے۔ میونسپل کارپوریشن نے پالتو جانوروں کی تعداد، ان کی دیکھ بھال اور عوامی مقامات پر ان کے کنٹرول کو لے کر واضح اصول طے کیے ہیں۔ لکھنؤ میں پالتو جانوروں کے حوالے سے نافذ نئے ذیلی قوانین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بلیوں کو پہلی بار لائسنس کے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ یعنی اب بلی پالنے والوں کو بھی میونسپل کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے لائسنس لینا ہوگا۔









