مرادآباد/رام پور، 13 اگست (یواین آئی) اترپردیش کے رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کی مسماری سے متعلق حکم پر عائد عبوری روک فی الحال برقرار رہے گی۔مرادآباد ڈویژنل کمشنر آنجنے کمار سنگھ کی عدالت نے جمعرات کو دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور پہلے جاری کیے گئے جوں کی توں حیثیت (اسٹیٹس کو) اور عبوری حکمِ امتناع کو برقرار رکھا۔ معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست کو ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے نائب صدر اور ضلع مجسٹریٹ نے 15 جولائی کو جاری حکم میں یونیورسٹی کیمپس کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے غیر قانونی قرار دیا تھا اور انہیں 15 دن کے اندر خود منہدم کرنے کا نوٹس دیا تھا۔
اس حکم کے خلاف جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے وکیل جنید اعجاز نے 20 جولائی کو ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ 27 جولائی کو سماعت کے دوران عدالت نے اپیل کے فیصلے تک مسماری کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی۔ بعد میں وکلا کے عدالتی کارروائی سے الگ رہنے کے باعث سماعت ملتوی ہوتی رہی اور معاملے کی سماعت کے لیے 13 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔سماعت کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے وکیل جنید اعجاز نے دلیل دی کہ ضلع پنچایت کے متعلقہ قواعد 2012 میں نافذ ہوئے، جبکہ یونیورسٹی اس سے پہلے قائم ہوچکی تھی۔ ایسی صورت میں بعد میں بنائے گئے قواعد کو ماضی سے نافذ کرکے تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2008 تک تعمیر شدہ عمارتوں کا ریکارڈ تعمیرات عامہ کے محکمے (پی ڈبلیو ڈی) کے پاس موجود ہے۔دوسری جانب ریاستی حکومت اور آر ڈی اے کی جانب سے سرکاری وکیل دنیش سنگھ چوہان نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے لے آؤٹ پلان اور منظور شدہ نقشہ پیش نہ کیے جانے کا بھی معاملہ اٹھایا۔









