رائے پور:12؍اگست:(پریس ریلیز) داؤدی بوہرہ سماج کے 53ویں مذہبی پیشوا، پرم پون سَیدنا مفضل سیف الدین صاحب نے منگل، 11 اگست کو آماناکا میں واقع نو تعمیر شدہ حسنی مسجد میں رائے پور میں جمع ہوئے تقریباً 6 ہزار داؤدی بوہرہ سماج کے افراد سے خطاب کیا۔
اپنے وعظ میں سیدنا صاحب نے شہر کے نام رائے پور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گجراتی زبان میں ’رائی‘ کا مطلب سرسوں کا چھوٹا سا بیج ہے۔ انہوں نے رائی کی مثال کے ذریعے عاجزی کے ساتھ مسلسل اور چھوٹی چھوٹی کوششیں کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی اہمیت سمجھائی۔انہوں نے علاقے میں اگائے اور پیدا کیے جانے والے چاول اور لوہے کی خصوصیات کا بھی ذکر کیا۔ ان مثالوں کے ذریعے سیدنا صاحب نے محنت، صبر اور ثابت قدمی کی اقدار پر زور دیا۔ انہوں نے سماج کے افراد سے تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے اور ایماندارانہ روزی کمانے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنے کی اپیل کی۔
ملک بھر کے 100 سے زائد شہروں، قصبوں اور دیہات سے داؤدی بوہرہ سماج کے افراد سیدنا صاحب کا وعظ سننے کے لیے رائے پور پہنچے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مذہبی زندگی سے متعلق موضوعات کے ساتھ ساتھ خاندان، کاروبار، سماج اور وسیع تر معاشرے کے تئیں فرد کی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کی۔
سیدنا صاحب پیر، 10 اگست کو ممبئی سے رائے پور پہنچے۔ گزشتہ 10 برسوں میں رائے پور کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔رائے پور میں داؤدی بوہرہ سماج کے تقریباً 400 خاندان آباد ہیں۔ ان میں سے کئی خاندان ہارڈویئر، کپڑے اور پاور ٹولز سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار سے وابستہ ہیں۔ سماج کے افراد شہر میں سماجی بہبود سے متعلق سرگرمیوں میں بھی فعال طور پر حصہ لیتے ہیں، جن میں خوراک اور غذائیت کی امداد کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پروگرام بھی شامل ہیں۔