نئی دہلی 9اگست:کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اتوار کو نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) سے اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ کو عام کرنے کی اپیل کی، جسے ٹریبونل نے ’ماحولیاتی طور پر تباہ کن‘ گریٹ نیکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ کو دی گئی ماحولیاتی منظوریوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رپورٹ عام ہونے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اس میں شدید خامیاں ہیں۔ رمیش نے امید ظاہر کی کہ مختلف ٹریبونل اور خاص طور پر این جی ٹی اپنی آواز اور اختیارات دوبارہ حاصل کریں گے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کریں گے۔کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’لوک سبھا میں کل ٹریبونل ریفارمز بل، 2026 پر بحث ہونے والی ہے۔ یہ بل گزشتہ برسوں کے دوران تشکیل دیے گئے 16 نیم عدالتی ٹریبونلز کے لیے ایک نئی سمت طے کر سکتا ہے۔ ان میں انتہائی اہم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) بھی شامل ہے، جس کا قیام اکتوبر 2010 میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت عمل میں آیا تھا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس بل کا مقصد 19 نومبر 2025 کے تاریخی ’مدراس بار ایسوسی ایشن‘ فیصلے میں دی گئی سپریم کورٹ کی ہدایات کو نافذ کرنا ہے۔ اس فیصلے میں ٹریبونل ریفارمز ایکٹ، 2021 کی اہم دفعات کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور تقرریوں کے لیے ایک آزاد نیشنل ٹریبونل کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا گیا تھا۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’چونکہ ایک آزاد این جی ٹی کا وجود ہی داؤ پر لگا ہوا تھا، اس لیے میں بھی سپریم کورٹ میں 2021 کے قانون کو چیلنج کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس سے پہلے میں نے فنانس ایکٹ، 2017 کی ان دفعات کو بھی چیلنج کیا تھا جن کے ذریعے ٹریبونل کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان میں ترمیمات کو مَنی بل کا حصہ قرار دینے کا راستہ اختیار کیا گیا تھا، تاکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، خاص طور پر راجیہ سبھا میں ان کی مکمل اور مناسب قانون سازی کی جانچ سے بچا جا سکے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی طرف سے مدلل تنقید اور عدالت کے پچھلے فیصلوں پر توجہ نہ دیے جانے کی وجہ سے کافی نقصان ہو چکا ہے۔‘‘