بھوپال 8 اگست :وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ برکس ممالک کے وزرائے ثقافت اور عالمی نمائندوں کی کانفرنس پوری ریاست کے لیے انتہائی فخر اور اعزاز کا موضوع ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قابل قیادت میں بھارت اپنی ثقافتی وراثت، مالا مال قدیم روایات اور تاریخی عظمت کو عالمی سطح پر انتہائی مؤثر انداز اور فخر کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کے روز کشابھاؤ ٹھاکرے بین الاقوامی کنونشن سینٹر میں برکس وزرائے ثقافت اور ثقافتی ورکنگ گروپ کی میٹنگوں کے اختتام کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ برکس وزرائے ثقافت کے گہرے غور و خوض اور کثیر ملکی مذاکرات کے بعد متفقہ طور پر ’بھوپال اعلامیہ‘ کو اپنایا گیا، جو برکس رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات، ورثے کے تحفظ اور تخلیقی معیشت کو فروغ دینے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بھارتی فکر کے بنیادی منتر—’وسودھیو کٹمبکم‘، ’جیو اور جینے دو‘ اور ’سروے بھونتو سکھنہ‘—کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا یہ قدیم تصور عالمی امن، ہم آہنگی اور عالمی فلاح و بہبود کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ’دل کی سرزمین‘ مدھیہ پردیش اس تاریخی پروگرام کا گواہ اور میزبان بن کر فخر محسوس کر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کی روحانی بیداری، تاریخی طرزِ تعمیر اور قبائلی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ تمام غیر ملکی مہمانوں کو ریاست کی مالا مال فن و ثقافت، منفرد پکوانوں اور پْرخلوص مہمان نوازی کا ایک غیر معمولی تجربہ حاصل ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس میٹنگ کے ذریعے نہ صرف برکس ممالک کے درمیان ثقافتی شراکت داری مضبوط ہوئی ہے بلکہ مدھیہ پردیش کی سیاحت، دستکاری اور لوک فنون کو بھی بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت ملی ہے۔ انہوں نے اس تاریخی پروگرام کے کامیاب انتظام کے لیے مرکزی وزارتِ ثقافت اور تمام شریک ممالک کے نمائندوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ اور اظہارِ تشکر کیا۔
مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت مسٹر گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ بھارت کی برکس صدارت کے تحت ثقافتی ورکنگ گروپ کی میٹنگوں کا ایک منظم سلسلہ منعقد کیا گیا۔مسٹر شیکھاوت نے بتایا کہ برکس ممالک نے ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں (CCI) اور تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت فنکاروں، دستکاروں اور تخلیق کاروں کی نیٹ ورکنگ، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انہیں بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کا نظام تیار کیا جائے گا۔ بھارت کی خصوصی تجویز پر تمام برکس اور شراکت دار ممالک نے متفقہ طور پر ’رضاکارانہ فنکار رجسٹری‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد فنکاروں کا ایک متحد نیٹ ورک تیار کرنا اور ’عوام سے عوام کا رابطہ‘ ( People-to-People Contact) مضبوط بنانا ہے۔
مرکزی وزیر مسٹر شیکھاوت نے بتایا کہ اعلامیے میں روایتی علمی نظام اور ثقافتی اظہار کے تحفظ، عجائب گھروں، کتب خانوں اور محفوظات کے ڈیجیٹلائزیشن اور دستاویزی ورثے کے طویل مدتی تحفظ کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بھارت کے سارناتھ اسٹوپا کی مثال دیتے ہوئے اعلامیے میں یونیسکو کے کثیر ملکی نامزدگی کے عمل کے ذریعے مشترکہ ثقافتی ورثوں کو عالمی شناخت دلانے میں باہمی تعاون کا فیصلہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
چیف سیکریٹری مسٹر اشوک برنوال نے کہا کہ بھوپال اعلامیے کے ذریعے مدھیہ پردیش اور بھوپال کی شبیہ پوری دنیا میں مزید نکھرے گی۔ چیف سیکریٹری مسٹر برنوال نے مدھیہ پردیش کی جانب سے مرکزی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مختلف ممالک کے مندوبین کا استقبال اور خیرمقدم کیا
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے برکس ممالک کے نمائندوں اور دیگر مندوبین کا استقبال اور خیرمقدم کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس موقع پر مرکزی وزیر ثقافت مسٹر گجیندر سنگھ شیکھاوت کا استقبال کیا اور اس منفرد پروگرام کے انعقاد کے لیے مرکزی وزارتِ ثقافت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مرکزی سکریٹری ثقافت مسٹر وویک اگروال اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ثقافت مسٹر شیو شیکھر شکلا موجود تھے۔
بھوپال میں کانفرنس کے دوران 6 اور 7 اگست کو ’برکس ثقافتی میلہ‘ بھی شاندار انداز میں منعقد کیا گیا، جس میں بیلاروس، برازیل، انڈونیشیا، روس، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے فنکاروں نے اپنی اپنی روایتی اور لوک فنون کی دلکش پیشکشیں پیش کیں۔ اس میلے کی خاص کشش مدھیہ پردیش حکومت کے تعاون سے پیش کیا گیا ’امرتسیہ مدھیہ پردیش‘ رقص ناٹیکا رہا۔ 35 منٹ کی اس شاندار پیشکش میں 125 سے زائد فنکاروں نے حصہ لیا اور مدھیہ پردیش کی کلاسیکی، لوک اور قبائلی رقص روایات کے ذریعے ریاست کے تاریخی، روحانی اور ثقافتی سفر کی جیتی جاگتی عکاسی کی۔