نئی دہلی 25جولائی: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد جہاں طلبا و نوجوان طبقہ جشن میں ڈوب گیا ہے، وہیں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا رد عمل بھی آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، عآپ سمیت کئی پارٹیوں کے لیڈران نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو جین-زی کی فتح قرار دیا اور مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اس کا گھمنڈ اب چکناچور ہو چکا ہے۔ کانگریس نے تو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کی کچھ ویڈیوز کا کولاز شیئر کیا ہے، جس میں وہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے کیپشن لگایا ہے ’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘۔ آئیے ذیل میں دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر کیا رد عمل ظاہر کیا۔
راہل گاندھی (کانگریس):
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہمارے تعلیمی نظام کو پھر سے سنوارنے کی سمت میں بہت بڑا قدم ہے۔ شاباش ملک بھر کے طلبا، آپ سبھی پر فخر ہے۔ سڑکوں پر آ کر جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کی حفاظت میں ڈٹ کر کھڑے ہونے والے ہر ایک نوجوان، ہر طلبا کو بہت بہت مبارکباد۔ 2 مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ وزیر اعظم طلبا اور ہندوستان کے مستقبل کو احترام دیتے ہوئے معافی مانگیں اور طلبا پر تشدد کے قصورواروں پر کارروائی ہو۔ یہ سماج کے دوسرے طبقات کسانوں، مزدوروں، غریبوں، ہر وہ شخص جسے اس حکومت نے دبایا ہے، کچلا ہے… کے لیے مثال ہے۔ اپنے وقار کے لیے آئینی طریقے سے ڈٹ کر کھڑے ہونے میں ہی اصل ہمت ہے۔ اس حکومت کو ہٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ ڈرو مت!
سپریا سولے (این سی پی-ایس پی):
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ امن سے مظاہرہ کرنے والوں، طلبا و اپوزیشن کے لگاتار دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد دیتی ہوں، جو نیٹ-یوجی مسئلہ پر ڈٹے رہے۔ لیکن یہ اختتام نہیں ہو سکتا، ہم اصل جوابدہی، بڑے پیمانے پر تعلیم میں اصلاح اور پارلیمنٹ میں نیٹ معاملہ پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ششی تھرور (کانگریس):
وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں جوابدہی سے ہمیشہ کے لیے بچا نہیں جا سکتا۔ یہ ملک بھر کے طلبا، سرپرست اور شہریوں کی کئی ہفتوں سے پختہ ارادہ اور امن سے اٹھائی گئی آوازوں کے بعد آیا ہے، جنھوں نے نظر انداز ہونے سے منع کر دیا تھا۔
راجیو شکلا (کانگریس):
میں وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا استقبال کرتا ہوں۔ یہ ہندوستان کے طلبا، ہندوستان کے نوجوانوں اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ حکومت صرف استعفیٰ سے نہیں رکے گی، بلکہ مستقبل میں کسی امتحان کا سوالنامہ لیک نہ ہو، اس کے لیے کچھ ٹھوس قدم بھی اٹھائے گی۔ اس کے علاوہ تعلیمی شعبہ میں بڑے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان اور طلبا ہمارا مستقبل ہیں، ہمیں ان کی بات سننی ہوگی۔
اروند کیجریوال (عآپ):
آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو، جین-زی کو بہت مبارکباد۔ بہت خوشی کی بات ہے، آپ لوگوں کی جدوجہد رنگ لائی۔ دھرمیندر پردھان کو آخر کار استعفیٰ دینا پڑا۔ یہ پوری جمہوریت کی بہت بڑی جیت ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کا جمہوریت سے بھروسہ ہی اٹھ گیا تھا۔ لوگوں کو لگنے لگا تھا کہ حکومتیں سنتی ہی نہیں ہیں۔ عوام حکومتوں کے سامنے گڑگڑاتی رہتی تھی، ہاتھ جوڑتی رہتی تھی لیکن سماعت ہی نہیں ہوتی تھی۔ اتنی بڑی تحریک چلی، اور بالآخر حکومت کے تکبر کو جھکنا پڑا۔ یہ جمہوریت کی بہت بڑی جیت ہے۔ اب حکومت کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کو عوام کی سننی پڑے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت نیٹ کے سسٹم کو ٹھیک کرے گی تاکہ اب سے اس ملک کے اندر پیپر لیک ہونا بند ہو جائے۔ اب ہمارے ملک کے طلبا کو خودکشی نہ کرنی پڑے۔
پی چدمبرم (کانگریس):
مجھے ابھی ابھی مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کی خبر ملی ہے۔ میں اس استعفیٰ کا استقبال کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اس سے موجودہ کشیدگی کم ہوگی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تعلیمی نظام سے منسلک حقیقی ایشوز پر سنجیدہ بحث کا راستہ کھلے گا۔
مایاوتی (بہوجن سماج پارٹی):
ملک کے طلبا و نوجوانوں کی تحریک کے سبب آج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ذریعہ استعفیٰ دینے جانے کا فیصلہ مناسب ہے۔ یہ فیصلہ پہلے ہی لے لیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ ہماری پارٹی مرکزی حکومت سے یہ امید کرتی ہے کہ جن پولیس اہلکاروں نے جنتر منتر پر پُرامن مظاہرہ کر رہے غیر مسلح لڑکے و لڑکیوں پر بربریت کے ساتھ لاٹھی اور ڈنڈوں وغیرہ سے چوٹ پہنچائی ہے، ان پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
خاص طور سے جن مرد پولیس اہلکاروں نے لڑکیوں کے ساتھ بے ہودہ و شرمناک بدسلوکی کی اور طاقت کا استعمال کیا، ان کو نشان زد کر کے ان کے خلاف ڈسپلنری و کریمنل کیس چلا کر سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو تحریک چلا رہے طلبا و نوجوانوں کے خلاف جو بھی ایف آئی آر یا شکایت داخل کی گئی ہے، ان سبھی کو واپس لے لیا جائے، جس سے ان کو آگے چل کر تھانوں یا عدالت کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔









