شملہ24جولائی: ہماچل پردیش کے لاہول-اسپیتی ضلع کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے پنگی وادی میں جمعہ کو پیش آنے والے ایک ہولناک لینڈ سلائیڈنگ حادثے میں 6 ماہ کے ایک شیر خوار بچے سمیت 13 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 2 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک ٹاٹا سومو گاڑی پر پہاڑ سے ایک بڑی چٹان آ گری، جس کے نتیجے میں گاڑی ملبے تلے دب گئی اور اس میں آگ بھی لگ گئی۔ یہ المناک واقعہ ادے پور-پنگی (کِلّاڑ) شاہراہ پر کرونالہ کے مقام پر پیش آیا۔ حکام کے مطابق، گاڑی میں کل 15 افراد سوار تھے جو کُلّو سے پنگی وادی جا رہے تھے۔ حادثے سے چند لمحے قبل دو مسافر گاڑی سے کودنے میں کامیاب رہے، جس سے ان کی جان بچ گئی، جبکہ باقی 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ضلع لاہول-اسپیتی کی ڈپٹی کمشنر کرن بڑانہ نے بتایا کہ گاڑی میں ڈرائیور سمیت 15 افراد موجود تھے۔ یہ شاہراہ ایک روز قبل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند کر دی گئی تھی، جس کی وجہ سے تمام مسافر ٹنڈی میں رکے ہوئے تھے۔ سڑک کھلنے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے، تاہم راستے میں یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا۔
حادثے کے فوراً بعد بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے اہلکاروں نے امدادی اور بچاؤ کارروائیاں شروع کر دیں۔ لاہول-اسپیتی پولیس، مقامی انتظامیہ اور دیگر امدادی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ تاہم خراب موسم اور مسلسل گرنے والے ملبے کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پنگی کے ریزیڈنٹ کمشنر امن دیپ سنگھ نے بتایا کہ کِلّاڑ-ادے پور شاہراہ، جو چمبہ ضلع کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہے، مون سون کے موسم میں لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں گرنے کے واقعات کے لیے انتہائی حساس سمجھی جاتی ہے۔
دریں اثنا، ہندوستانی محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک ریاست کے کئی اضلاع میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا سومو پر چٹان گرنے سے 13 افراد کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پیاروں کو کھونے کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔









