نئی دہلی23جولائی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور سابق قومی صدر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے نیٹ پیپر لیک معاملہ پر احتجاج کر رہے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خدشات اور مطالبات حقیقی ہیں اور حکومت کو ان کا حل ہمدردی، حساسیت اور دور رس نقطۂ نظر کے ساتھ تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے احتجاجی طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی، خصوصاً خواتین اور طالبات کے ساتھ برتاؤ، پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر شدید افسوس ہوا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے نوجوان طلبہ کئی دنوں سے نئی دہلی کی سڑکوں پر اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کی تشویشات اور سرکار سے وابستہ سوالات حقیقی ہیں اور انہیں صرف قانون و انتظام کا مسئلہ سمجھ کر طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو ہمدردی کے ساتھ سمجھنے اور ان کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملہ کو صرف امن و امان کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے تعلیمی نظام پر پڑنے والے اثرات اور نوجوانوں کے مستقبل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ بی جے پی کے سابق قومی صدر نے احتجاج کے دوران خواتین اور نوجوان طالبات پر پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال کو “بے رحمانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طرح کی تصاویر اور اطلاعات نے بے حد تکلیف پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ ہندوستان کو “وکست بھارت” (ترقی یافتہ ہندوستان) کے قومی ہدف سے دور لے جا سکتا ہے۔ مرلی منوہر جوشی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر نوجوان نسل کے اعتماد کو مجروح کیا گیا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق ملک کی ترقی اور روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔









