نئی دہلی 23جولائی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہِبی ایڈن نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس کی خاتون اراکین پارلیمنٹ کے پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی (بریچ آف پرولیج) کے معاملے میں نوٹس پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے راہل گاندھی سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ دھکا مکی اور بدسلوکی کی۔ لوک سبھا کے جنرل سیکریٹری کو بھیجے گئے اپنے مکتوب میں ہِبی ایڈن نے کہا کہ 21 جولائی کو کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ طلبا اور نوجوانوں کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج ایک روز قبل طلبا کے خلاف پولیس کارروائی اور تعلیمی امتحانات میں سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا، اس کے باوجود پولیس نے راہل گاندھی کے ساتھ “بے رحمانہ دھکا مکی” کی اور انہیں زبردستی حراست میں لے کر دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم منتقل کر دیا۔ ایڈن کے مطابق، قائد حزب اختلاف کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ نہ صرف ان کے پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے بھی منافی ہے۔ ہِبی ایڈن نے اپنے نوٹس میں کہا کہ ملک بھر میں طلبا اور نوجوان کافی عرصے سے سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق راہل گاندھی ان طلبا اور نوجوانوں کی آواز پارلیمنٹ اور سڑک دونوں جگہ بلند کر رہے ہیں۔
طالب علموں کی تحریک کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش
رائے پور، 23 جولائی (یو این آئی) چھتیس گڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر کرن دیو نے الزام لگایا کہ کانگریس طالب علموں کی تحریک کو سیاسی رنگ دے کر ملک میں انارکی کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی طالب علموں کے مسائل پر بحث کے لیے تیار ہے، جبکہ اپوزیشن ایوان میں بحث سے بچ رہی ہے۔دارالحکومت رائے پور میں واقع کشابھاؤ ٹھاکرے کمپلیکس میں جمعرات کو منعقدہ صحافیوں کی کانفرنس میں دیو نے کہا کہ جنتر منتر پر چل رہی طالب علموں کی تحریک میں کانگریس نے منصوبہ بند طریقے سے مداخلت کی اور اسے سیاسی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔









