تہران20جولائی: ایک جانب ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی تک واپس پہنچ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ کہیں آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر اور سویز کنال تک نہ پہنچ جائے۔ تازہ انتباہ نیٹو کے ایک سابق کمانڈر نے دیا ہے، جنہوں نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اگر جنگ میں دباؤ مزید بڑھا تو ایران سویز کنال کو نشانہ بنا کر دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔ امریکہ کے وزیر توانائی کرس رائٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی آمد و رفت تقریباً بند ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روزانہ 70 لاکھ بیرل تیل کی نقل و حمل جاری رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج عرب کے علاقے سے روزانہ تقریباً 14 ملین بیرل سے کچھ کم تیل منتقل کیا جا رہا ہے، جو اس جنگ سے پہلے کی ٹریفک کا تقریباً دو تہائی ہے اور مارچ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
نیٹو کے سابق سپریم الائیڈ کمانڈر، ریٹائرڈ ایڈمرل جیمز اسٹاورڈس نے خبردار کیا ہے کہ ایران سویز نہر کو نشانہ بنا کر تنازع کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے حوثیوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ اسٹاورڈس نے امریکی میڈیا سی این این کے پروگرام “اسٹیٹ آف دی یونین” میں کہا کہ ایرانی جنوب مغربی کونے میں حوثیوں کو استعمال کرتے ہوئے نہر کو بند کرنے کی کوششوں پر بات کرنا شروع کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ایسے میں سویز نہر پر نظر رکھیں، کیونکہ ایران ایک اور چال چل سکتا ہے۔









