نئی دہلی20جولائی:ایودھیا کے رام مندر میں چندہ چوری اور جنتر منتر پر جمع مظاہرین طلبا پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے پیر کے روز مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب (پارلیمنٹ میں) بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن وہ مانتے ہی نہیں۔‘‘ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے بھی رام مندر چندہ چوری اور نیٹ-یوجی امتحان کے سوالنامے لیک ہونے جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم سب بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں کئی مسائل اور بڑے مسائل ہیں۔ اس کے باوجود آپ اس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بجائے آپ طلبا پر آنسو گیس کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ وہ ہمارے بچے ہیں۔‘‘
انھوں نے حکومت اور انتظامیہ کے اس رویہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ دوسری طرف ششی تھرور نے ایک پرانی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہیے، کیونکہ حکومت اپنی منمانی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں اراکین پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھا سکیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ ہزاروں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مظاہرین نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب سیکورٹی اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا، تو تھرور نے کہا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کس جذبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جب ایک پرامن احتجاج ہو رہا ہے تو لاٹھی چارج کی کیا وجہ ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لاٹھی چارج عدم تشدد کا عمل نہیں ہے۔ یہ تشدد کا عمل ہے۔ مجھے اس کی منطق سمجھ نہیں آتی۔‘









