بھوپال:17جولائی: اللہ وحدہٗ لاشریک کا بے انتہا احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں ایمان والوں کو اپنے گھر میں حاضری اور اپنے سامنے سجدہ ریز ہونے کی توفیق فرمائی ۔اللہ ہماری بندگی کو شرف قبولیت بخشے اور ہر عمل محض اپنی رضا کیلئے بجا لانے کا شعور عطا کرے ۔
مذکورہ باتیں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی حفظہ اللہ نے موتی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے فرمائیں ۔
قاضی شہر نے ماہ صفر المظفر کو اپنا موضوع سخن بناتے ہوئے فرمایا کہ ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے ۔شریعت مطہرہ میں اس ماہ کی نہ کوئی خاص فضیلت ہے نہ ہی اس ماہ کو کسی بھی اعتبار سے منحوس مانا گیا ہے ۔یعنی شریعت میں اس ماہ کی نہ کوئی فضیلت ہے نہ ہی کوئی نحوست ثابت ہے ۔اس ماہ سے جڑے توہمات ۔بدشگونی۔نحوست اور بد اعمالیاں محض زمانہ جاہلیت کی پیداوار اور نفس پرستوں کا فریب ہیں ۔
اللہ تعالیٰ سے سال میں 12 مہینے مقرر کئے ہیں اور ان میں سے کسی مہینے کو منحوس۔مکروہ نہیں بنایا البتہ نفس پرستوں نے جہاں ہر مہینے میں بدعات گڑھ لی ہیں بھلا صفر المظفر کو کہاں بخشنے والے ہیں ۔اس ماہ کو بھی بدعات کی چادر لپیٹ کر اتنا بدنام کردیا کہ آج کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کی قابل ذکر تعداد اس ماہ نکاح کو مکروہ سمجھتی ہے ۔ماہ صفر کو بلاؤں ۔مصیبتوں۔مشکلوں اور پریشانیوں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے ۔یہ ایسے خیالات ہیں جو شریعت میں کہیں نظر ہی نہیں آتے ۔میں نے ندوہ سے مدینہ منورہ تک کسب علوم شریعت کیا مگر آج تک مجھے کتاب سنت میں ان رسم ورواج کا ذکر نہیں ملا ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ شریعت کا مزاج روز روشن کی طرح ظاہر ہے ۔کیا ہم اتنا بھی نہیں جانتے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں اسی لئے بھیجے گئے کہ زمانے کی جاہلیت کا خاتمہ ہو ۔توہمات میں جکڑی انسانیت کو نجات ملے اور بدشگونی کرنے اور اس پر اعتماد کرنے والے اس جال سے نکل کر ان اعمال خالصہ پر عمل کرے جن کی تعلیمات اللہ کے رسول برحق نے دی ہیں ؟ مگر بدعات و رسومات کو شریعت کا حصہ ماننے والے لوگوں کا شعور بدعات کے جراثیم سے اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ وہ شریعت کی راہ چلنے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدعات وخرافات کی رد میں سیکڑوں واضح اور روشن احادیث موجود ہیں جن کے ذریعے ہادی عالم نے امت کو واضح پیغام دیا ہے کہ بدعات انتہائی خطرناک ہیں اور ایمان کیلئے سم قاتل ۔خوب ہوشیار رہو اور یاد رکھو اعمال صالحہ کے نتائج نیک اوربرے اعمال کے نتائج انتہائی خطرناک ۔خوفناک۔وحشتناک اور عبرتناک ہیں ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ آخر دین کے معاملے ہی میں ہم اتنے لاعلم کیوں ہیں ۔بدعات کو دین بناکر پیش کرنے والوں کے مکر میں ہم اتنی آسانی سے پھنس کیوں جاتے ہیں ؟ ان سوالوں کا فقط ایک جواب ہے ہم دین و شریعت کو پڑھتے ہی نہیں بس سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے کو ہی دین مان لیتے ہیں اور ہمارا یہی طریقہ رسم ورواج کو ختم نہیں ہونے دیتا ۔میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں دین پڑھئے آپ دیکھیں گے رسم و رواج اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو منحوس سمجھنے کی جاہلانہ جسارت بہت جلد دم توڑ دےگی ۔خالص دین پر عمل کیجئے ملاوٹ اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ۔









