ہر سال 15 جولائی کو دنیا بھر میں World Youth Skills Day یعنی نوجوانوں کی ہنرمندی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نوجوانوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں صرف رسمی تعلیم کافی نہیں، بلکہ ایسے عملی، فنی اور ڈیجیٹل ہنر بھی ضروری ہیں جو انہیں باعزت روزگار، خود انحصاری اور بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکیں۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں وہ نوجوان جو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کرتے، رفتہ رفتہ روزگار کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی تعلیم کا مطلب صرف ڈگری حاصل کر لینا سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈگری کے ساتھ ہنر، تجربہ، تخلیقی صلاحیت اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ہمارے ملک میں ہر سال لاکھوں نوجوان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد مناسب روزگار حاصل نہیں کر پاتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تعلیم اور روزگار کی ضروریات کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ صنعت، تجارت اور خدمات کے مختلف شعبوں کو جن مہارتوں کی ضرورت ہے، وہ اکثر ہمارے تعلیمی نظام میں مطلوبہ انداز میں شامل نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً ڈگری ہاتھ میں ہوتی ہے، لیکن عملی مہارت کی کمی نوجوانوں کو بے روزگاری اور مایوسی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں اس کی شدت کہیں زیادہ ہے۔ وہاں کے نوجوان اکثر معیاری تعلیمی اداروں، جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، کیریئر کائونسلنگ اور ہنر مندی کے مراکز سے محروم رہتے ہیں۔ معاشی کمزوری، وسائل کی کمی اور معلومات تک محدود رسائی ان کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں معاشرے کے پسماندہ اور کمزور طبقات کے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں کمپیوٹر، اے آئی (AI)، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلی کیشن، الیکٹریشن، پلمبنگ، مشین آپریشن، زبانوں کی مہارت، ذرائع ابلاغ میں مہارت، کاروباری منصوبہ بندی اور چھوٹے کاروبار کی ٹریننگ جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ اگر نوجوان اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق ان میدانوں میں مہارت حاصل کریں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی بعض والدین صرف ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری ملازمت کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں، جبکہ دنیا بہت آگے نکل چکی ہے۔ آج ایک ہنر مند نوجوان، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو، اپنی قابلیت کی بنیاد پر عزت، معاشی استحکام اور عالمی سطح پر شناخت حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے سوچ میں تبدیلی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے جدید اور معیاری اسکل ڈیولپمنٹ مراکز قائم کریں، فنی تعلیم کو فروغ دیں، صنعتوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کا رابطہ مضبوط کریں اور ایسے پروگرام ترتیب دیں جن سے ٹریننگ کے بعد روزگار یا خود روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی نصابی تعلیم کے ساتھ عملی تربیت، انٹرن شپ، ڈیجیٹل مہارت اور شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ سماجی اور فلاحی تنظیموں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اگر یہ ادارے غریب، یتیم، پسماندہ اور مالی طور پر کمزور نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر مندی کی ٹریننگ، کیریئر کائونسلنگ، اسکالرشپ اور روزگار سے جوڑنے کی کوشش کریں تو ہزاروں خاندانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اصل خدمت یہی ہے کہ نوجوانوں کو اِس قابل بنایا جائے کہ وہ دوسروں کا محتاج نہ رہے بلکہ خود دوسروں کا سہارا بن سکیں۔
آج ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نوجوانوں میں مایوسی، نشیلی چیزوں کی لعنت ، سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال، نفرت انگیز سوچ اور بے مقصد مصروفیات اسی وقت کم ہوں گی جب انہیں مثبت سمت، بہتر تعلیم، معیاری ہنر اور باعزت روزگار میسر آئے گا۔ ایک مصروف، باصلاحیت اور ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔
World Youth Skills Day (نوجوانوں کی ہنرمندی کا عالمی دن) ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف اسناد نہیں بلکہ صلاحیت، اعتماد، کردار اور ہنر بھی دینا ہوگا۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو محض ڈگری نہیں بلکہ علم، ہنر، کردار اور مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر ہم نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں سے آراستہ کریں تو وہ اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ ملک و معاشرے کا مستقبل بھی روشن کر سکتے ہیں۔