پٹنہ15جولائی: راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو نے چارہ گھوٹالہ معاملے میں سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت منسوخ کرنے اور سزا کی معطلی کے حکم کو ختم کرنے سے انکار کیے جانے کے بعد بدھ کے روز جب وہ اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو ان کے حامیوں نے ان کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ تصاویر بھی کھنچوائیں۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں لالو پرساد یادو نے مختصر انداز میں کہا، ’’ہاں، میں خوش ہوں۔‘‘ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کے روز جھارکھنڈ کی دیوگھر ٹریزری سے غیر قانونی رقم نکالے جانے سے متعلق چارہ گھوٹالہ معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے تحت لالو پرساد یادو کو ضمانت دی گئی تھی اور ان کی سزا کو آخری فیصلہ آنے تک معطل رکھا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس مرحلے پر ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ زیر التوا فوجداری اپیل کا نمٹارا چھ ماہ کے اندر کرے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کو تقریباً 7 برس گزر چکے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر اس میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ 2018 سے زیر التوا اپیل کی جلد سماعت ہونی چاہیے تاکہ معاملے کا حتمی تصفیہ ممکن ہو سکے۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ لالو پرساد یادو کو سزا کی معطلی کا فائدہ اس بنیاد پر دیا گیا کہ وہ اپنی نصف سزا مکمل کر چکے تھے، جبکہ سزا کی مدت کے حساب کتاب میں قانونی طور پر اختلاف موجود ہے۔









