بھوپال:12؍جولائی:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ جو ہمیں زندگی عطا کرے اور نیکی کی راہ دکھائے، وہ ہمیشہ قابلِ احترام ہوتا ہے۔ ہمارے لیے فطرت ہی خدا کا مظہر ہے، کیونکہ یہی ہمیں زندگی دیتی ہے اور ہماری پرورش کرتی ہے۔ اس لیے ہم سب کو فطرت پرست بن کر اس کا احترام کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ درخت ہماری زندگی کی بنیاد بھی ہیں اور دھرتی کا حسن بھی۔ درخت رشیوں اور منیوں کی طرح ایک ہی مقام پر رہ کر ریاضت کرتے ہیں۔ یہ ہماری منفی توانائی کو خود جذب کرکے ہمیں مثبت توانائی یعنی حیات بخش ہوا فراہم کرنے والے فیاض سادھک ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنجر زمین کو ہریالی کی چادر اوڑھانا، قدرتی ماں کو سبز چنری اوڑھانے کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی پہل پر چلائی جا رہی ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کوئی سرکاری پروگرام نہیں بلکہ زندگی کے لیے سانسوں کے مستقل انتظام کی مہم ہے۔ پانی، جنگل، زمین اور جانور، جن سے ہمارا ماحولیاتی نظام تشکیل پاتا ہے، یہ مہم ان سب کے تحفظ کا مشن ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو اتوار کو ضلع اندور کے گاؤں بدھانیا میں واقع بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے احاطے میں منعقدہ شجرکاری پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے یہاں اپنی مرحومہ والدہ محترمہ لیلا بائی یادو کی یاد میں سنگترے کا پھل دار پودا لگا کر اندور میں 21 لاکھ پودے لگانے اور 51 ہزار بارش کے پانی کے ذخیرے کی اکائیوں کے قیام (تعمیر) کی عظیم مہم کا چراغ روشن کرکے افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت میں پانچ عظیم عناصر کو تسلیم کیا گیا ہے، جن میں سب سے اہم پانی ہے۔ پانی ہی سے ہماری زندگی قائم ہے۔ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم اور پانی، جنگلات اور ماحولیات کے تحفظ کی اس مقدس مہم میں پورے معاشرے کی شمولیت نہایت قابلِ ستائش ہے۔ ہم سب کو مل کر اس سمت میں آگے آنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے شجرکاری اور آبی ذخیرہ کے میدان میں حکومت اور معاشرے کی معاون سماجی تنظیم پرتھوی کی حوصلہ افزائی کے لیے دو لاکھ روپے اور ریاست میں چلائی گئی نکسل مخالف مہم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے بی ایس ایف کے دو جوانوں کو اسٹیج پر اعزاز سے نوازتے ہوئے دو، دو لاکھ روپے بطور ترغیبی رقم دینے کا اعلان کیا۔
اندور نے آبی تحفظ میں بہتر کارکردگی کی سمت دکھائی
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ماں اہلیہ کی نگری اندور ماضی کے اس شاندار باب کے طور پر جانی جاتی ہے جس نے سناتن ثقافت کو ازسرِ نو زندہ کیا۔ دیوی اہلیہ بائی نے اپنے دورِ حکومت میں اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کئی مقامات پر کنویں اور باولیاں تعمیر کرائیں۔ انہی سے تحریک لیتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت نے آبی تحفظ کے لیے دریاؤں، تالابوں، کنوؤں اور باولیوں کی صفائی اور ان کی ازسرِ نو تعمیر کی مہم شروع کی ہے۔ اندور میں بڑے پیمانے پر آبی تحفظ کا کام ہوا ہے۔ اندور نے ملک کو آبی تحفظ کی نئی سمت دکھائی ہے۔ اسی وجہ سے مدھیہ پردیش نے ملک میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت ایل نینو جیسی موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے شجرکاری ہی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ’’ایک پیڑ، ماں کے نام‘‘ مہم اسی سمت میں ایک اہم اور حوصلہ افزا اقدام ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اندور جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو ریکارڈ قائم کرتا ہے۔ پانی ہو یا جنگلات، ماحولیات کے تحفظ کے میدان میں اندور میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم میں آٹھ سے دس فٹ اونچے پودے لگائے جا رہے ہیں، جو جلد ہی بڑے ہو کر پھل دیں گے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس مہم کا یہ تیسرا سال ہے اور ہر سال اس میں معاشرے کی شمولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ آئندہ تین دنوں میں یہاں ایک لاکھ سے زیادہ جنگلاتی اقسام کے پودے لگائے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے امرت ہریت مہوتسو 2026 کے تحت ضلع اندور میں 21 لاکھ پودے لگانے کا عزم کرنے پر ضلع کے باشندوں کو مبارک باد دی۔
سینئر رکنِ اسمبلی اور ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے کہا کہ اندور ریاست کا اقتصادی دارالحکومت ہونے کے ساتھ اب ماحولیاتی تحفظ کی سمت بھی متعین کر رہا ہے۔ ’’ایک پیڑ، ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت 21 لاکھ پودے لگانے کا عظیم عزم بلا شبہ انتہائی قابلِ ستائش ہے۔شہری ترقی و رہائش کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ دھرتی ماں نے ہمیں پانی، جنگلات، حیاتیاتی وسائل اور معدنیات کی صورت میں انمول نعمتیں عطا کی ہیں۔ ہمارا مدھیہ پردیش فطرت کا فرزند ہے۔ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے لیے پورا اندور متحرک ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر یہ مہم ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔اندور کے میئر پشیمتر بھارگو نے کہا کہ ہم ریاستی حکومت کی جل گنگا سنوردھن مہم کو مزید رفتار دے رہے ہیں۔ 51 ہزار بارش کے پانی کے ذخیرے کی اکائیاں تعمیر کرنے کے ہدف کے تحت اب تک 8 ہزار 500 اکائیاں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ اندور میں آبی تحفظ کو ہم نے عوامی انقلاب کی شکل دے دی ہے۔
پروگرام میں پنچایت و دیہی ترقی کے وزیر پرہلاد پٹیل، آبی وسائل کے وزیر تْلسی رام سلاوٹ، اندور کے رکنِ پارلیمنٹ شنکر لالوانی، سینئر سماجی کارکن اجے جاموال، سینئر رہنما کرشن مراری موگھے، سابق وزیر اور رکنِ اسمبلی مہیندر ہارڈیا، رکنِ اسمبلی مدھو ورما، رکنِ اسمبلی رمیش میندولا، رکنِ اسمبلی گولو شکلا، ضلع پنچایت کی صدر محترمہ نینا ستیش مالویہ، شروَن چاوڑا، وشال پٹیل، سمیت مشرا، سابق رکنِ اسمبلی آکاش وجے ورگیہ، بی ایس ایف کے آئی جی سندھو، شجرکاری اور آبی تحفظ کو عوامی تحریک بنانے والی تمام مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندے، رضاکار تنظیموں کے رضاکار اور بڑی تعداد میں بی ایس ایف کے جوان موجود تھے۔