لکھنو10جولائیـ:اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے علی گنج سیکٹر ڈی میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں 15 افراد کی جان لینے والی عمارت کو گرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی مجاز عدالت نے عمارت کو منظور شدہ نقشے کے برخلاف اور تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد عمارت کے مالکان کو 15 دن کے اندر خود غیر قانونی تعمیر ہٹانے کی مہلت دی گئی ہے۔ لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی کے مطابق یہ کارروائی اتر پردیش شہری منصوبہ بندی اور ترقی قانون 1973 کی متعلقہ دفعات کے تحت کی جا رہی ہے۔ نوٹس عمارت کے مالکان وریندر شکلا، سریندر شکلا اور دیگر متعلقہ افراد کو جاری کیا گیا ہے۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مالکان نے خود عمارت نہیں گرائی تو اتھارٹی اپنے طور پر انہدام کی کارروائی انجام دے گی اور اس پر آنے والے تمام اخراجات متعلقہ فریقوں سے سرکاری واجبات کی طرح وصول کیے جائیں گے۔ تحقیقات کے دوران لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی نے پایا کہ عمارت کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق نہیں کی گئی تھی اور کئی حصوں میں غیر مجاز تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ بعد ازاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ میں بھی متعدد سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق عمارت میں ہنگامی انخلا کے لیے مختص راستے کی جگہ لفٹ تعمیر کر دی گئی تھی، مقررہ حد سے زیادہ بجلی کا بوجھ استعمال کیا جا رہا تھا اور آگ سے تحفظ کے لازمی اصولوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا تھا۔