رائسین:04؍جولائی(پریس ریلیز) ضلع رائسین کی غیرت گنج تحصیل کے تحت واقع گرام پنچایت گڑھی میں ہفتہ کے روز رائسن پولیس کی جانب سے سائبر سیکیورٹی بیداری مہم کے تحت ایک اہم آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں دیہی عوام کو آن لائن دھوکہ دہی، فرضی کالز، جعلی لنکس، اے پی کے (APK) فائلوں، سوشل میڈیا فراڈ اور بینکاری سے متعلق سائبر جرائم سے بچاؤ کے مؤثر طریقوں سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا گیا۔
پروگرام میں ایس آئی تیج پال سنگھ بگھیل نے زور دیکرکہاکہ واٹس ایپ پر آنے والی اے پی کے (APK) فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں، سائبر فراڈ کی فوری شکایت درج کرائیں۔
تھانہ انچارج ڈی۔پی۔ لوہیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں سائبر جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہر شہری کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نامعلوم شخص کو او ٹی پی، بینک اکاؤنٹ نمبر، اے ٹی ایم کارڈ کی معلومات، سی وی وی، یو پی آئی پن یا پاس ورڈ کسی بھی صورت میں نہ دیں۔ اگر موبائل پر کسی اجنبی نمبر سے کوئی مشکوک لنک، اے پی کے فائل یا لالچ دینے والا پیغام موصول ہو تو اسے فوراً نظر انداز کریں اور ہرگز ڈاؤن لوڈ نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص سائبر جرم کا شکار ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر قومی سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کرائے اور سائبر پورٹل پر بھی اطلاع دے، تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
چوکی انچارج تیج پال سنگھ بگھیل نے کہا کہ واٹس ایپ، ٹیلی گرام یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موصول ہونے والی اے پی کے (APK) فائلیں موبائل کی سیکیورٹی کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسی فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے سے موبائل ہیک ہو سکتا ہے اور بینک اکاؤنٹ سے رقم بھی نکالی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خود بھی محتاط رہیں اور دوسروں کو بھی سائبر جرائم سے بچاؤ کے بارے میں بیدار کریں۔
اس موقع پر گرام پنچایت گڑھی کے سرپنچ سید مسعود علی پٹیل بطورِ خاص موجود رہے۔ پروگرام میں جنپد رکن نمائندہ رضوان خان، سابق جنپد رکن کھیم چند چورسیا، سماجی کارکن موہن جاٹو، ہندو اتسو سمیتی کے صدر روی چورسیا، سید ودود، راہل جاٹو، راج کمار چورسیا، پرکاش جاٹو سمیت بڑی تعداد میں دیہی عوام نے شرکت کی۔