بھوپال 4جولائی: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ معدنی دولت کی کثرت اور سرمایہ کاری کے موافق پالیسیوں سے مدھیہ پردیش ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے ریاست کی معیشت مضبوط ہوگی اور وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کے آتم نربھر بھارت مشن کو بھی طاقت ملے گی۔ بیتول سے علی راج پور تک پھیلی منرل بیلٹ میں اعلیٰ معیار کے گریفائٹ کے بڑے ذخائر ملنے سے ریاست ملک کے ابھرتے ہوئے ‘کریٹیکل منرل ہب’ کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس بیلٹ میں ہائی فکسڈ کاربن اور بہترین فلیکی معیار والا گریفائٹ پایا گیا ہے۔ اسے الیکٹرک وہیکل (ای وی)، انرجی اسٹوریج، الیکٹرانکس اور دفاعی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ یہ دریافت مدھیہ پردیش کو مستقبل کی گرین اکانومی کا بڑا مرکز بنانے کے ساتھ ملک کو گرین انرجی اور انرجی اسٹوریج کے شعبے میں خود کفیل بنانے میں اہم کردار نبھائے گی۔ ریاست گریفائٹ کے وسائل میں ملک کی معروف ریاستوں میں شامل ہے۔ ریاست کے بیتول، علی راج پور اور سیدھی اضلاع میں اعلیٰ معیار کے گریفائٹ کے بڑے ذخائر کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ان علاقوں سے حاصل ہونے والے گریفائٹ میں اعلیٰ فکسڈ کاربن کی مقدار ہونے کی وجہ سے یہ الیکٹروڈ مینوفیکچرنگ، بیٹری انڈسٹری اور دیگر اعلیٰ تکنیکی صنعتی استعمال کے لیے انتہائی موزوں مانا جاتا ہے۔
ریاست میں گریفائٹ کان کنی کے شعبے میں بڑی تبدیلی تب آئی جب پبلک سیکٹر کی معروف کمپنی کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) نے غیر کوئلہ کان کنی کے شعبے میں داخل ہوتے ہوئے علی راج پور ضلع کے کھٹالی چھوٹی گریفائٹ بلاک کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس سے ریاست میں بڑے پیمانے پر تجارتی گریفائٹ کان کنی کا راستہ صاف ہوا۔ ماہرین کے مطابق بیتول علاقے کے گریفائٹ شسٹ میں وینیڈیم جیسی اہم کریٹیکل منرل ملنے کا بھی امکان ہے۔ اس سے یہ علاقہ ملک کے سب سے اہم کثیر معدنی علاقوں میں شامل ہو جائے گا۔ گریفائٹ لیتھیم آئن بیٹریوں کے اینوڈ مینوفیکچرنگ کا اہم خام مال ہے۔ دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں اور انرجی اسٹوریج سسٹمز کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اس کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں مل رہا اعلیٰ معیار کا گریفائٹ ای وی انڈسٹری کو رفتار دے گا، انرجی اسٹوریج پروجیکٹس کو مضبوط بنائے گا اور ونڈ اور سولر انرجی پروجیکٹس کے لیے بیٹری مینوفیکچرنگ میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی دفاعی اور الیکٹرانکس صنعتوں کو بھی ملکی سطح پر خام مال فراہم کرے گا۔ اس کے نتیجے میں گریفائٹ کی درآمد پر ملک کا انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔