بھوپال:3جولائی:قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے آج نماز جمعہ سے قبل اپنے معمول کے بصیرت افروز خطاب میں مصلیان مسجد سے فرمایا کہ اسلا م کے مطابق آبِ کوثر اس خاص پانی اور نہر کو کہا جاتا ہے جو روزِ محشر (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ انعام عطا فرمائی ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہوگا۔ احادیث مبارکہ کے مطابق جو شخص اس پانی کا ایک گھونٹ پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس مقدس پانی کو تقسیم کرنے کا شرف خود نبی کریم ﷺ کو حاصل ہوگا اور اس سے آپ ؐ کی امت کے وہ خوش نصیب افراد سیراب ہوں گے جنہوں نے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر اپنی زندگی گزاری ہوگی ۔
قاضی شہر نے آب کوثر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پانی کا تعلق جنت میں موجود ایک نہر ‘کوثر’ سے ہے جو میدانِ محشر میں ایک وسیع حوض کی صورت میں جاری کی جائے گی، جہاں سے لوگوں کو پانی پلایا جائے گا۔ حوضِ کوثر اور اس کے پانی کی خصوصیات احادیثِ مبارکہ میں بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں جب کہ قرآن پاک میں اس تعلق سے اللہ تعالیٰ نے باضابطہ ایک سورت نازل فرمادی۔
قرآن پاک کی سورۃالکوثر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرماتاہے:”بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کر دی ہے۔” (سورۃ الکوثر: 1).
مفسرین کے مطابق یہاں ‘کوثر’ سے مراد خیرِ کثیر اور وہ حوضِ کوثر ہے جس پر قیامت کے دن آپﷺ اپنی امت کو سیراب فرمائیں گے۔
نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ” حوض کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، خوشبو کستوری سے زیادہ عمدہ اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔” (صحیح بخاری)۔
قیامت کے ہولناک منظر اور پیاس کے عالم میں جب ہر طرف بے چینی ہوگی، حوضِ کوثر اہل ایمان کے لئے سب سے بڑی تسکین کا باعث ہوگا۔
نبی کریم ﷺ اپنے ہاتھوں سے اپنی امت کے نیک بندوں کو یہ مبارک پانی پلائیں گے۔ وہ لوگ جو دنیا میں ہادی برحق وجہ تخلیق کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا رہے اور آپ سے محبت کی، وہ خوش نصیب اس حوض سے سیراب ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں نبی کریمﷺ کی کامل اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم قیامت کے دن حوضِ کوثر سے آپ کے دست مبارک سے پانی پینے والوں میں شامل ہو سکیں۔
مگر افسوس ! حوض کوثر سے ساقی کوثر کے دست مبارک سے سیرابی کی سعادت حاصل کرنے والے اہل ایمان اور متبع شریعت اور خوش نصیب لوگوں کے ارد گرد وہ لوگ بھی ہوں گے جو بڑے بد نصیب ہوں گے حوض کوثر کے قریب جاکر بھی تشنہ لب رہ جائیں گے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حوض کوثر کے پاس کچھ لوگ ایسے بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے بھی پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائیگا، میں کہوں گا : یہ تو مجھ میں سے ہیں۔ کہا جائے گا: بے شک آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے (دین میں) کیا کیا نئی چیزیں (خرافات، شرک و بدعات اور اختراعات ایجاد کرلی تھیں اور اپنی ایجادات کو اللہ کافرمان ،آپ ﷺ کی تعلیمات اور اصول دین بتاکر اپنا بھی ایمان خراب کر بیٹھے تھے اور لوگوں کو بھی راہ حق سے بھٹکا دیا تھا ۔ اس پر میں کہوں گا: دورہوجا ،دور ہوجا، تم نے میرے بعد (دین کو )بدل ڈالا۔(صحیح بخاری)۔
محترم حاضرین مسجد ! اِس حدیثِ مبارکہ سے تین سبق حاصل ہوتے ہیں : پہلا یہ کہ اللہ کے نبی عالم الغیب یعنی غیب کا علم نہیں رکھتے اگر رکھتے ہوتے تو دین میں نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے والوں کے بارے میں یہ نہ فرماتے کہ “یہ تو مجھ میں سے ہیں” دوسرا سبق: یہ حاصل ہوا کہ اللہ کے رسول قیامت کے روز مشرک اور بدعتیوں سے بیزاری اختیار کرتے ہوئے ان کو اپنے سے دور کرنے کا حکم دیں گے اور تیسراسبق: یہ حاصل ہوتا ہے کہ شرک اور بدعت کتنی مردود چیز یں ہیں کہ جس کی بنا پر مشرک اور بدعتی بدنصیب اس روز حوض کوثر کے جام سے محروم رہیں گے (جو کہ مبارک ہاتھوں سے پلایا جائے گا )۔
اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں شرعی تعلیمات میں غوروفکر کرنے کی توفیق دے اور ہم انہی احکام و سنت پر عمل کریں جن کا ثبوت قرآن و احادیث میں ثبوت ہے ۔اسلام ہماری مرضی کا نام نہیں یہ تو صرف اور صرف اللہ کی مرضیات کا نام ہے جسے ہمارے پیغمبر سرور کائنات ﷺ نے بعینہ ہم تک پہنچادیا ہے ۔ میرے بھائیو! ہمارے درمیان ایسے بھی لوگوں کی کمی نہیں جو وضع قطع میں تو فرشتوں کی طرح نظر آتے ہیں مگر دین کے نام پر دکانداری میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اور اپنی مکاری کو درست ثابت کرنے کی خاطر قرآن و احادیث کے بیجا استعمال سے بھی نہیں ڈرتے ۔ابھی یوم عاشورہ گزرا ،اس تعلق سے آپ حیران و پریشان ہوجائیں گے ،اہل بیت کے فضائل و مناقب میں ’دوستوں‘ نے ایسی ایسی حدیثیں گڑھ لی ہیں کہ حضرت علی ؓ حضرت حسینؓ کے مراتب و فضائل کو پیغمبر خدا اور جملہ صحابہ کرام کے فضائل سے بھی بڑھا دیا۔آپ ہی بتائیں ایسی جسارت کا کیا انجام ہوگا؟کربلا کے میدان میں 90فیصد افسانے ڈال دیئے کہ دنیا قیامت تک سینہ کوبی کرتی رہے اور اسی کو اصل اسلام سمجھے،نہ نماز ،نہ روزہ،نہ حاجتمندوں کی امداد،حق و صداقت سے نہ کوئی تعلق اور نہ ہی اہل بیت کے سوا کسی صحابی سے محبت ۔ میرے بھائیو! کیا یہی اسلام ہے ؟ اگر ہان! تو ایسے نام نہاد مسلمانوں کو میدان محشر میں معلوم ہوجائے گاکہ جب انہیں بدعتی،گمراہ اور بد دین بتاکر حوض کوثر سے نامراد لوٹا دیا جائے گا ۔ اللہ وحدہ لا شریک ہماری ہر قسم کی شرک و بدعات اور دین میں خوفناک آمیزش سے حفاظت فرمائے ۔








