بھوپال:03؍جولائی:وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور آیوش مسٹر اِنڈر سنگھ پرمار نے کہا کہ یونیورسٹیاں صرف ڈگری دینے والے ادارے نہیں بلکہ ایسے علمی مراکز ہیں جہاں معاشرے کے مسائل کا حل پیش کرنے والے بہترین، حساس، اخلاقی اور وطن سے وابستہ شہری تیار ہوتے ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا بنیادی مقصد طلبہ کو صرف روزگار کے قابل بنانا نہیں بلکہ انہیں معاشرے اور ملک کی ضروریات کے مطابق باصلاحیت، ذمہ دار اور جدت پسند بنانا ہے۔ یونیورسٹیوں کو اسی مقصد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ مسٹر پرمار برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال میں منعقدہ “تعلیمی مکالمہ” پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ہدف تمام یونیورسٹیوں کو تعلیمی برتری، تحقیق، جدت، اچھی حکمرانی اور طالب علم مرکوز نظام کے مثالی ماڈل کے طور پر ترقی دینا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ورک کلچر ایسی ہونی چاہیے جس میں ہر فیصلہ طلبہ کے مفاد، معیار، شفافیت اور تعلیمی برتری کو اعلیٰ ترجیح دیتے ہوئے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں صرف علم فراہم کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کو سمت دینے والے مضبوط تعلیمی ادارے بنیں۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ ایک مثالی یونیورسٹی وہ ہے جہاں معیاری تدریس، وقت کی پابندی کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں، منظم نظام، تحقیق کی مضبوط روایت، جدت اور طلبہ کی شخصیت سازی کے بھرپور مواقع موجود ہوں۔ یونیورسٹیوں کو ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں طلبہ صرف ڈگری حاصل نہ کریں بلکہ معاشرے اور ریاست کے چیلنجز کا حل پیش کرنے والے باصلاحیت شہری بن کر نکلیں۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ پروفیسرز کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ‘سارتھک ایپ’ کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی سیشن سے طلبہ کی حاضری بھی ‘سارتھک ایپ کے ذریعے درج کی جائے گی، جس سے باقاعدہ حاضری، نظم و ضبط، کلاسوں میں شرکت اور تدریس کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ بروقت داخلہ، بروقت امتحان اور بروقت نتیجہ، معیاری اعلیٰ تعلیم کی بنیاد ہیں۔ امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور غلطیوں سے پاک بنانے کے لیے ڈیجیٹل جانچ، آن لائن امتحانی انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تعلیمی مفاد کو سب سے مقدم رکھا جائے گا اور اس سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
مسٹر پرمار نے یونیورسٹیوں میں تحقیق اور جدت کی مضبوط ثقافت پیدا کرنے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق صرف تعلیمی کامیابی تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرہ، صنعت، زراعت، صحت، ماحولیات اور مقامی مسائل کے حل سے بھی جڑی ہو۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق کثیر الجہتی تعلیم، بھارتی علمی روایت، بھارتی زبانوں، مہارت پر مبنی تعلیم، اسٹارٹ اپ، جدت اور صنعتوں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں کردار سازی، اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری، قیادت کی صلاحیت، جدت، تحقیق کا رجحان اور حب الوطنی پیدا کرنا ہے۔ یونیورسٹیوں کو ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں سے نکلنے والا ہر طالب علم معاشرتی مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ ریاستی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار، تحقیق، جدت، بہتر انتظام اور طلبہ کے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یونیورسٹیوں کو قومی سطح پر بہترین مراکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ برکت اللہ یونیورسٹی سمیت ریاست کی تمام یونیورسٹیوں کو ایسے مثالی ادارے بنایا جائے گا جہاں سے علم، مہارت، اقدار اور سماجی ذمہ داری سے بھرپور طلبہ نکل کر قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں۔
مسٹر پرمار نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کیمپس میں صاف، محفوظ، منظم اور طالب علم دوست ماحول یقینی بنایا جائے۔ لائبریری، لیبارٹریز، کھیلوں کی سہولیات، ڈیجیٹل وسائل، تحقیقی ڈھانچے، پلیسمنٹ سرگرمیاں اور اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ، معیاری تحقیق، صنعتوں کے ساتھ تعاون، بھارتی علمی روایت اور روزگار پر مبنی تعلیم کو ترجیح دینے پر زور دیا۔انہوں نے طلبہ، محققین، اساتذہ اور ملازمین سے براہِ راست مکالمہ کیا اور امتحانات، تحقیق، اسکالرشپ، ہاسٹل، لائبریری، لیبارٹریز، ڈیجیٹل سہولیات، پلیسمنٹ، کھیلوں اور دیگر تعلیمی امور سے متعلق تجاویز اور مسائل غور سے سنے۔مسٹر پرمار نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ان مسائل کا بروقت اور معیاری حل یقینی بنایا جائے اور ایسی نظام قائم کیا جائے جہاں ہر مسئلہ حساسیت، شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ حل ہو اور مکالمے کی روایت مزید مضبوط ہو۔
انہوں نے برکت اللہ یونیورسٹی کے گرلز اور بوائز ہاسٹل کا معائنہ بھی کیا اور وہاں صفائی، سیکیورٹی، کھانے، پینے کے پانی، بجلی، اسٹڈی رومز، واش رومز اور دیگر بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ طلبہ کو محفوظ، صاف اور معیاری رہائشی ماحول فراہم کیا جائے اور ضروری مرمت و بہتری کے کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ویوک شرما، سماجی کارکن مسٹر چیتس سکھاڑیہ، رجسٹرار، افسران، اساتذہ، ملازمین، محققین اور بڑی تعداد میں طلبہ موجود تھے۔