پورنیہ: 03؍جولائی (پریس ریلیز) سوشلسٹ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (ایس ایس اے آئی) کے ضلع پورنیہ کے صدر محمد بسمل نے پورنیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو طلبہ سے متعلق تین نکاتی مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت پیش کیاہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ پی ای ٹی- 2024 اور پی ای ٹی-2025 کے امیدواروں نے دو سال قبل درخواست فارم جمع کرائے تھے اور امتحان کے انعقاد کا انتظار کر رہے تھے، لیکن یونیورسٹی کی جانب سے بروقت امتحان منعقد نہ کیے جانے کے باعث راج بھون کے فیصلے کے بعد پوری انتخابی و امتحانی کارروائی منسوخ کر دی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں امیدواروں کے دو قیمتی تعلیمی سال ضائع ہو گئے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی، معزز چانسلر سے ضروری اجازت اور رہنمائی حاصل کرتے ہوئے پی ای ٹی-2024 اور پی ای ٹی-2025 کے امیدواروں کے مفاد میں مناسب اور منصفانہ حل کو یقینی بنائے۔
دوسرے مطالبے میں سب ڈویژنل ڈگری کالج، بائسی میں طلبہ و طالبات کے لیے تعمیر کیے گئے ہاسٹل کو تعلیمی سیشن 2026-30 سے فعال کرنے کے لیے پندرہ دن کے اندر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کی تعمیر دو سال قبل مکمل ہو چکی ہے، لیکن اب تک اسے شروع نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یادداشت میں متنبہ کیا گیا کہ اگر پندرہ دن کے اندر نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو ایس ایس اے آئی طلبہ کے مفاد میں جمہوری اور پُرامن طریقے سے پورنیہ یونیورسٹی کا گھیراؤ کرے گی۔
تیسرے مطالبے میں پی جی سیشن 2026-28 کے لیے جلد از جلد داخلہ عمل شروع کرنے اور سمرتھ پورٹل کے ذریعے کیے جانے والے آن لائن درخواست فارم کی فیس 600 روپے سے کم کرکے کم سے کم مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ معاشی طور پر کمزور طلبہ و طالبات کو مالی راحت مل سکے۔
ضلع صدر محمد بسمل نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو طلبہ کے مفاد میں ان مطالبات پر فوری اور مثبت فیصلہ کرنا چاہیے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی انتظامی غفلت کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ پی ای ٹی-2024 اور پی ای ٹی-2025 کے امیدواروں کے دو سال ضائع ہو چکے ہیں، جس کی اخلاقی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح بائسی کالج کا ہاسٹل مکمل طور پر تیار ہونے کے باوجود بند پڑا ہے، جس کے باعث غریب اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ مقررہ مدت کے اندر ان مطالبات پر مؤثر کارروائی نہیں کرتی تو ایس ایس اے آئی طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مرحلہ وار جمہوری تحریک شروع کرے گی، جس کی مکمل ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کا مقصد تصادم پیدا کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کے حقوق کا تحفظ اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔








